شاعری

تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں

تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں مر جاؤں کیا کسی سے محبت نہیں کروں سوئے فلک ہوائی سفر ہے تو کیا ہوا ڈر جاؤں ماہتاب کی صورت نہیں کروں آنکھیں ہیں یا شراب کے ساغر بھرے ہوئے پی جاؤں کیا خیال شریعت نہیں کروں قبضے میں ان کے شہر طلسمات ہی سہی کھو جاؤں کیا خدا کی عبادت نہیں کروں جب طے ...

مزید پڑھیے

یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے

یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے سفر طویل ہے پانی بچا کے چلنا ہے بس اس خیال سے گھبرا کے چھٹ گئے سب لوگ یہ شرط تھی کہ قطاریں بنا کے چلنا ہے وہ آئے اور زمیں روند کر چلے بھی گئے ہمیں بھی اپنا خسارہ بھلا کے چلنا ہے کچھ ایسے فرض بھی ذمے ہیں ذمہ داروں پر جنہیں ہمارے دلوں کو دکھا کے ...

مزید پڑھیے

اس اندھے قید خانے میں کہیں روزن نہیں ہوتا

اس اندھے قید خانے میں کہیں روزن نہیں ہوتا بکھر جاتے طبیعت میں اگر بچپن نہیں ہوتا تجھے کیا علم کے ہر چوٹ پہ تارے نکلتے ہیں وہ آدم ہی نہیں جس کا کوئی دشمن نہیں ہوتا انہیں بھی ہم نے سیاروں سے واپس آتے دیکھا ہے جہاں بس عشق ہوتا ہے کوئی ایندھن نہیں ہوتا ہماری نا مرادی میں وفاداری ...

مزید پڑھیے

روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں

روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں ایک جگنو بھی چمک جائے تو ڈر جاتا ہوں مری عادت مجھے پاگل نہیں ہونے دیتی لوگ تو اب بھی سمجھتے ہیں کہ گھر جاتا ہوں میں نے اس شہر میں وہ ٹھوکریں کھائی ہیں کہ اب آنکھ بھی موند کے گزروں تو گزر جاتا ہوں اس لئے بھی مرا اعزاز پہ حق بنتا ہے سر جھکائے ...

مزید پڑھیے

تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوں

تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوں چاند دہلیز پہ رک جائے تو شک کرتا ہوں میں قصیدہ ترا لکھوں تو کوئی بات نہیں پر کوئی دوسرا دہرائے تو شک کرتا ہوں اڑتے اڑتے کبھی معصوم کبوتر کوئی آپ کی چھت پہ اتر جائے تو شک کرتا ہوں پھول کے جھنڈ سے ہٹ کر کوئی پیاسا بھنورا تیرے پہلو سے گزر جائے ...

مزید پڑھیے

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں کروٹ بدل کے سو رہا ہوں یہ جاگنا اور سونا کیا ہے آنکھوں میں جہاں سمو رہا ہوں دنیا سے الجھ کے سر پر شاید اپنی ہی بلا کو ڈھو رہا ہوں یہ لاگ اور لگاؤ کیا ہے اپنا وجود ہی ڈبو رہا ہوں اب تک جو زندگی ہے گزری کانٹے نفس میں بو رہا ہوں ہے کچھ تو اپنی پردہ ...

مزید پڑھیے

ازل ابد سے بہت دور جھومتے تھے ہم

ازل ابد سے بہت دور جھومتے تھے ہم کسی کے دھیان میں کچھ دن کو جا بسے تھے ہم وہ غم ہو یا ہو خوشی کیف کم نہ ہوتا تھا عجیب راہ سے ہو کر گزر رہے تھے ہم بہت عزیز تھے ہم کو ہمارے دوست مگر اک اجنبی کے لئے سب سے چھٹ گئے تھے ہم کرم سے آپ کے سرشار تھا یہ دل لیکن خوشی کی آنچ میں کیا کیا پگھل رہے ...

مزید پڑھیے

مضطرب ہیں وقت کے ذرات سورج سے کہو

مضطرب ہیں وقت کے ذرات سورج سے کہو آ گئی کیوں آگ کی برسات سورج سے کہو ہم ہیں اور شعلوں کی لپٹیں بڑھ رہی ہیں ہر طرف کیا ہوئی وہ چھاؤں کی اک بات سورج سے کہو ناچتے ہیں یہ بھیانک سائے آخر کس لیے زیر لب کیا کہہ رہی ہے رات سورج سے کہو ایک تپتا دشت ہے اور ساتھ کوئی بھی نہیں کس سفر میں ہے ...

مزید پڑھیے

نہیں ملتے وہ اب تو کیا بات ہے

نہیں ملتے وہ اب تو کیا بات ہے یہاں خود سے بھی کب ملاقات ہے ترے دھیان کے سب اجالے گئے بس اب ہم ہیں اور دکھ بھری رات ہے ہماری طرف بھی کبھی اک نگاہ ہمیں بھی بہت نشۂ ذات ہے سلگتا ہوا دن جو کٹ بھی گیا تو پھر آنچ دیتی ہوئی رات ہے شکایت کسی سے تو کیا تھی مگر گلہ ایک رسم خرابات ہے نیا ...

مزید پڑھیے

چاند اوجھل ہو گیا ہر اک ستارا بجھ گیا

چاند اوجھل ہو گیا ہر اک ستارا بجھ گیا آندھیاں ایسی چلیں پھر دل ہمارا بجھ گیا اب تو ہم ہیں اور سمندر اور ہوائیں اور رات دور سے کرتا تھا جھلمل اک کنارا بجھ گیا گھورتے ہیں لوگ بیٹھے کیا خلاؤں میں کہ اب ہر اشارہ بجھ گیا ہے ہر سہارا بجھ گیا ہر نظر کے سامنے اب بے کراں پہلی سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4422 سے 4657