تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں
تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں مر جاؤں کیا کسی سے محبت نہیں کروں سوئے فلک ہوائی سفر ہے تو کیا ہوا ڈر جاؤں ماہتاب کی صورت نہیں کروں آنکھیں ہیں یا شراب کے ساغر بھرے ہوئے پی جاؤں کیا خیال شریعت نہیں کروں قبضے میں ان کے شہر طلسمات ہی سہی کھو جاؤں کیا خدا کی عبادت نہیں کروں جب طے ...