کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں
کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں بہت سکوت ہے میں خود کو بے قرار کروں بھروں میں رنگ نئے مضمحل تمنا میں اداس رات کو آسودۂ بہار کروں کچھ اور چاہ بڑھاؤں کچھ اور درد سہوں جو مجھ سے دور ہے یوں اس کو ہم کنار کروں وفا کے نام پہ کیا کیا جفائیں ہوتی رہیں میں ہر لباس جفا آج تار تار ...