شاعری

بے بسی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا

بے بسی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا زندگی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا روشنی اب میرے اشکوں سے ہے بس تیرگی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا ہنستے ہنستے ہو گیا برباد میں خوش دلی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا چیختا رہتا ہوں اکثر بے سبب بیکسی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا جی رہا ہوں میں اسے دیکھے بغیر بے حسی ایسی بھی ...

مزید پڑھیے

اے میاں کون یہ کہتا ہے محبت کی ہے

اے میاں کون یہ کہتا ہے محبت کی ہے بات یہ ہے کہ یہاں بات ضرورت کی ہے پھر کوئی چاک گریبان لیے پھرتا ہے حضرت عشق نے پھر کوئی شرارت کی ہے بس یونہی ایک ہیولیٰ سا نظر آیا تھا اور پھر دل نے دھڑکنے کی جو شدت کی ہے وہ مری چاہ کا ویسے بھی طلب گار نہ تھا پھر مرے دل نے سنبھلنے میں بھی عجلت کی ...

مزید پڑھیے

ہمیں نہ دیکھیے ہم غم کے مارے جیسے ہیں

ہمیں نہ دیکھیے ہم غم کے مارے جیسے ہیں کہ ہم تو ویسے ہیں اس کے اشارے جیسے ہیں یہ وصل، وصل کی مد میں غلط شمار کیا کہ اس کے ساتھ بھی یونہی کنارے جیسے ہیں طلسم چشم سلامت رہے کہ جس کے سبب کہیں ہیں پھول کہیں ہم ستارے جیسے ہیں وہ جانتا ہے جبھی دور بھاگتا ہے بہت وہ جانتا ہے ہم اس کو ...

مزید پڑھیے

میں نہ ہونے سے ہوا یعنی بڑی تقصیر کی

میں نہ ہونے سے ہوا یعنی بڑی تقصیر کی کیمیا گر نے مری مٹی مگر اکسیر کی ان دنوں آیا تھا تو جب حوصلہ درکار تھا خیر ہو تیری کہ تو نے تیرگی تنویر کی اور سوچا اور سوچا اور سوچا اور پھر اس خدائے لم یزل نے اور ہی تقدیر کی عاشقاں سنیے بگوش ہوش میری داستاں داستاں کچھ بھی نہیں یاروں نے بس ...

مزید پڑھیے

چاک کرتے ہیں گریباں اس فراوانی سے ہم

چاک کرتے ہیں گریباں اس فراوانی سے ہم روز خلعت پاتے ہیں دربار عریانی سے ہم منتخب کرتے ہیں میدان شکست اپنے لیے خاک پر گرتے ہیں لیکن اوج سلطانی سے ہم ہم زمین قتل گہ پر چلتے ہیں سینے کے بل جادۂ شمشیر سر کرتے ہیں پیشانی سے ہم ہاں میاں دنیا کی چم خم خوب ہے اپنی جگہ اک ذرا گھبرا گئے ...

مزید پڑھیے

کتنے میں بنتی ہے مہر ایسی

کتنے میں بنتی ہے مہر ایسی نا چیز احمد جاوید اویسیؔ میرے سخن میں ہے ایک شے سی آواز اتنی خاموشی ایسی کل عاشقوں کا آتے ہی مذکور کیا کیا نہ بہکے علامہ قیسی اس منطقی پر اپنی نظر ہے من وجہ ایسی من وجہ ویسی یاں کا نہ ہونا بھی وہم ہی ہے بطلان کس کا تحقیق کیسی کھلتی نہیں ہے مجھ پر یہ ...

مزید پڑھیے

موجود ہیں کتنے ہی تجھ سے بھی حسیں کر کے

موجود ہیں کتنے ہی تجھ سے بھی حسیں کر کے جھٹلا دیا آنکھوں کو میں دل پہ یقیں کر کے جس چشم سے رندوں میں ہو حق ہے اسی نے تو زاہد کو بھی رکھا ہے محراب نشیں کر کے کیا اس کی لطافت کا احوال بیاں کیجیے جو دل پہ ہوا ظاہر آنکھوں کو نہیں کر کے کچھ کم تھا بلائے جاں پہ چہرہ کہ اوپر سے آنکھیں ...

مزید پڑھیے

بارش کا ہے ایسا کال

بارش کا ہے ایسا کال سوکھے پڑے ہیں دل کے تال یہ ہی میرے دکھ سکھ ہیں کپڑا لتا آٹا دال دلی کا تختہ الٹا دل کی جمی ہے مگر چوپال آئندہ کی فکر نہ کر ورنہ دیکھ لے میرا حال آنسو پینا غم کھانا کافی ہے یہ رزق حلال دنیا اور دنیا کی چاہ جھوٹا دریا نقلی جال دل کا گزارا کیسے ہو سارے یار ...

مزید پڑھیے

دنیا سے تن کو ڈھانپ قیامت سے جان کو

دنیا سے تن کو ڈھانپ قیامت سے جان کو دو چادریں بہت ہیں تری آن بان کو اک میں ہی رہ گیا ہوں کیے سر کو بار دوش کیا پوچھتے ہو بھائی مرے خاندان کو جس دن سے اپنے چاک گریباں کا شور ہے تالے لگا گئے ہیں رفوگر دکان کو فی الحال دل پہ دل تو لیے جا رہے ہو تم اور جو حساب بھول گیا کل کلان کو دل ...

مزید پڑھیے

نہال وصل نہیں سنگ بار کرنے کو

نہال وصل نہیں سنگ بار کرنے کو بس ایک پھول ہے کافی بہار کرنے کو کبھی تو اپنے فقیروں کی دل کشائی کر کئی خزانے ہیں تجھ پر نثار کرنے کو یہ ایک لمحے کی دوری بہت ہے میرے لیے تمام عمر ترا انتظار کرنے کو کشش کرے ہے وہ مہتاب دل کو زوروں کی چلا یہ قطرہ بھی قلزم نثار کرنے کو تو پھر یہ دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4417 سے 4657