نہ فیصلہ تمہارا ہے نہ فیصلہ ہمارا ہے

نہ فیصلہ تمہارا ہے نہ فیصلہ ہمارا ہے
یہ وقت کے قزاق نے چھپا کے تیر مارا ہے


فقیہ شہر زندگی کی آنکھ کا جو نور تھا
وہ میں نے تیرے آستاں پہ خواب لا کے وارا ہے


ستار گاں کی بزم میں اداس چاند دیکھنا
نہ جانے کیسا خواب ہے نہ جانے کیا اشارہ ہے


ہمیں یہ خواب تتلیاں تلاشنا ہیں عمر بھر
کہ ہاتھ خالی نکلے ہیں چراغ ہے نہ تارہ ہے


پس غبار وقت یوں پکارتا ہے کون یہ
کہ ہجر و غم کا سلسلہ بتاؤ کیوں گوارا ہے


سجادؔ بھی ملول ہے کہ قافلہ ہے شام کا
فلک پہ ایک چاند ہے جو آخری سہارا ہے