شاعری

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے بعض اوقات بہ مجبوریٔ دل ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے صبح تک دست صبا نے کیا کیا پھول کانٹوں میں پروئے ہوں گے وہ سفینے جنہیں طوفاں نہ ملے ناخداؤں نے ڈبوئے ہوں گے رات بھر ہنستے ہوئے تاروں نے ان کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے کیا ...

مزید پڑھیے

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا مزاج عشق میں کب اعتدال رکھا ہے ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں سو میں نے رشتۂ غم کو بحال رکھا ہے ہم ...

مزید پڑھیے

تیری باتیں ہی سنانے آئے

تیری باتیں ہی سنانے آئے دوست بھی دل ہی دکھانے آئے پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں تیرے آنے کے زمانے آئے ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے ہم تجھے حال سنانے آئے عشق تنہا ہے سر منزل غم کون یہ بوجھ اٹھانے آئے اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم کچھ تجھے یاد دلانے آئے دل دھڑکتا ہے سفر کے ...

مزید پڑھیے

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا جب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی ...

مزید پڑھیے

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ چاپ ...

مزید پڑھیے

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے ...

مزید پڑھیے

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل میں سنگ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں بے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں کب سے اداسیوں کے گھنے ...

مزید پڑھیے

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول شاخ سے بڑھ کر کف دل ...

مزید پڑھیے

خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے

خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں ...

مزید پڑھیے

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے شائستگیٔ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا نمناک تو ہو جاتے ہیں جل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4410 سے 4657