شاعری

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشا سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ...

مزید پڑھیے

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے میں نے یہ ...

مزید پڑھیے

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو فضا ...

مزید پڑھیے

اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے

اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے ہم نے اس کے شہر کو چھوڑا اور آنکھوں کو موند لیا ہے اپنا یہ شیوہ تو نہیں تھا اپنے غم اوروں کو سونپیں خود تو جاگتے یا سوتے ہیں اس کو کیوں بے خواب کیا ہے خلقت کے آوازے بھی تھے بند اس کے دروازے بھی تھے پھر بھی اس کوچے سے گزرے پھر بھی اس ...

مزید پڑھیے

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانے ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی ہم ...

مزید پڑھیے

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ...

مزید پڑھیے

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی ...

مزید پڑھیے

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست تو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست لوگ ہر بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں یہ تو دنیا ہے مری جاں کئی دشمن کئی دوست تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امر بیل کوئی میری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے کوئی گزری ...

مزید پڑھیے

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4411 سے 4657