شاعری

کم نگاہی بھی ہے خاموشی بھی روپوشی بھی

کم نگاہی بھی ہے خاموشی بھی روپوشی بھی کتنی معصوم ہے احسان فراموشی بھی ہم سفر تو جو نہیں ہے تو یہ دھڑکا ہے ہمیں تھک نہ جائے کہیں رستے میں وفا کوشی بھی اب تو ہی رکھنا مرے پیراہن غم کا خیال ہوش کی طرح سے رسوا نہ ہو بے ہوشی بھی گھر میں رہئے تو سوا ہوتی ہے وحشت فاخرؔ چیخنے لگتی ہے ...

مزید پڑھیے

سینے میں دل جو درد کا مارا نہیں ملا

سینے میں دل جو درد کا مارا نہیں ملا پھر آئنے میں عکس ہمارا نہیں ملا میلے میں آ گئے تھے کہ شاید کوئی ملے اس بھیڑ میں بھی کوئی ہمارا نہیں ملا ہر چند اک ہجوم تھا آنکھوں کا ہر طرف لیکن کسی نظر کا سہارا نہیں ملا کشتی تو ڈوبنے کے لئے بے قرار تھی کشتی کو ڈوبنے کا اشارہ نہیں ملا

مزید پڑھیے

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں آج تک اپنی بیکلی کا سبب خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں ایک تو حرف آشنا تھا مگر اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں قاصدا ہم فقیر لوگوں کا اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے ...

مزید پڑھیے

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار برگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے شمع کی لو تھی کہ وہ تو تھا مگر ہجر کی رات دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائی لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے ...

مزید پڑھیے

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ ...

مزید پڑھیے

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری دیکھوں یہ ...

مزید پڑھیے

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ...

مزید پڑھیے

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس ...

مزید پڑھیے

کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے

کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے میں کیسے بات کروں اب کہاں سے لاؤں اسے مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں ...

مزید پڑھیے

پھر اسی رہ گزار پر شاید

پھر اسی رہ گزار پر شاید ہم کبھی مل سکیں مگر شاید جن کے ہم منتظر رہے ان کو مل گئے اور ہم سفر شاید جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھر بھی اے دوست غور کر شاید اجنبیت کی دھند چھٹ جائے چمک اٹھے تری نظر شاید زندگی بھر لہو رلائے گی یاد یاران بے خبر شاید جو بھی بچھڑے وہ کب ملے ہیں فرازؔ پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4409 سے 4657