شاعری

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا دشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیا عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا یہ الگ بات کہ برسے نہیں گرجے تو بہت ورنہ بادل مرے صحراؤں پہ امڈے کیا کیا آگ بھڑکی تو در و بام ہوئے راکھ کے ڈھیر اور دیتے رہے ...

مزید پڑھیے

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں ان کی ٹیسیں تو کائناتی ہیں آدمی شش جہات کا دولہا وقت کی گردشیں براتی ہیں فیصلے کر رہے ہیں عرش نشیں آفتیں آدمی پہ آتی ہیں کلیاں کس دور کے تصور میں خون ہوتے ہی مسکراتی ہیں تیرے وعدے ہوں جن کے شامل حال وہ امنگیں کہاں سماتی ہیں

مزید پڑھیے

وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھے

وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھے آنکھ کھولی تو ابھی عرصۂ ظلمات میں تھے صرف آفات نہ تھیں ذات الٰہی کا ثبوت پھول بھی دشت میں تھے حشر بھی جذبات میں تھے نہ یہ تقدیر کا لکھا تھا نہ منشائے خدا حادثے مجھ پہ جو گزرے مرے حالات میں تھے میں نے کی حد نظر پار تو یہ راز کھلا آسماں تھے تو ...

مزید پڑھیے

لب خاموش سے افشا ہوگا

لب خاموش سے افشا ہوگا راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا ابر گلزار پہ برسا ہوگا تم نہیں تھے تو سر بام خیال یاد کا کوئی ستارہ ہوگا کس توقع پہ کسی کو دیکھیں کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا زینت حلقۂ آغوش بنو دور بیٹھو گے تو چرچا ہوگا جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم اس ...

مزید پڑھیے

مرا غرور تجھے کھو کے ہار مان گیا

مرا غرور تجھے کھو کے ہار مان گیا میں چوٹ کھا کے مگر اپنی قدر جان گیا کہیں افق نہ ملا میری دشت گردی کو میں تیری دھن میں بھری کائنات چھان گیا خدا کے بعد تو بے انتہا اندھیرا ہے تری طلب میں کہاں تک نہ میرا دھیان گیا جبیں پہ بل بھی نہ آتا گنوا کے دونوں جہاں جو تو چھنا تو میں اپنی شکست ...

مزید پڑھیے

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں بس میرا چلے جو گردشوں پر دن کو بھی نہ چاند کو بجھاؤں میں چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں امکان پہ اس قدر یقیں ہے صحراؤں میں بیج ڈال آؤں میں شب کے مسافروں کی خاطر مشعل نہ ملے تو گھر جلاؤں اشعار ہیں میرے استعارے آؤ ...

مزید پڑھیے

فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو

فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو جتنے دور جاتے ہو اتنے پاس آتے ہو رات ٹوٹ پڑتی ہے جب سکوت زنداں پر تم مرے خیالوں میں چھپ کے گنگناتے ہو میری خلوت غم کے آہنی دریچوں پر اپنی مسکراہٹ کی مشعلیں جلاتے ہو جب تنی سلاخوں سے جھانکتی ہے تنہائی دل کی طرح پہلو سے لگ کے بیٹھ جاتے ہو تم ...

مزید پڑھیے

سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارا

سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارا اب دیکھیے کب ڈوبتا ہے صبح کا تارا مغرب میں جو ڈوبے اسے مشرق ہی نکالے میں خوب سمجھتا ہوں مشیت کا اشارا پڑھتا ہوں جب اس کو تو ثنا کرتا ہوں رب کی انسان کا چہرہ ہے کہ قرآن کا پارہ جی ہار کے تم پار نہ کر پاؤ ندی بھی ویسے تو سمندر کا بھی ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے

عمر بھر اس نے اسی طرح لبھایا ہے مجھے

عمر بھر اس نے اسی طرح لبھایا ہے مجھے وہ جو اس دشت کے اس پار سے لایا ہے مجھے کتنے آئینوں میں اک عکس دکھایا ہے مجھے زندگی نے جو اکیلا کبھی پایا ہے مجھے تو مرا کفر بھی ہے تو مرا ایمان بھی ہے تو نے لوٹا ہے مجھے تو نے بسایا ہے مجھے میں تجھے یاد بھی کرتا ہوں تو جل اٹھتا ہوں تو نے کس درد ...

مزید پڑھیے

اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا

اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا تجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گا جستجو بھی مرا فن ہے مرے بچھڑے ہوئے دوست جو بھی در بند ملا اس پہ صدا دے دوں گا ایک پل بھی ترے پہلو میں جو مل جائے تو میں اپنے اشکوں سے اسے آب بقا دے دوں گا رخ بدل دوں گا صبا کا ترے کوچے کی طرف اور طوفان کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4401 سے 4657