شاعری

زیست آزار ہوئی جاتی ہے

زیست آزار ہوئی جاتی ہے سانس تلوار ہوئی جاتی ہے جسم بے کار ہوا جاتا ہے روح بیدار ہوئی جاتی ہے کان سے دل میں اترتی نہیں بات اور گفتار ہوئی جاتی ہے ڈھل کے نکلی ہے حقیقت جب سے کچھ پر اسرار ہوئی جاتی ہے اب تو ہر زخم کی منہ بند کلی لب اظہار ہوئی جاتی ہے پھول ہی پھول ہیں ہر سمت ...

مزید پڑھیے

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے نیا منشور لکھا جا رہا ہے میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے سلامی کو جھکے جاتے ہیں اشجار ہوا کا ایک جھونکا جا رہا ہے مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے میں اک انساں ہوں یا سارا جہاں ہوں بگولہ ہے کہ صحرا جا رہا ...

مزید پڑھیے

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے کوہ غم پر سے جو دیکھوں تو مجھے دشت آغوش فنا لگتا ہے سر بازار ہے یاروں کی تلاش جو گزرتا ہے خفا لگتا ہے موسم گل میں سر شاخ گلاب شعلہ بھڑکے تو بجا لگتا ہے مسکراتا ہے جو اس عالم میں بہ خدا مجھ کو خدا لگتا ہے اتنا مانوس ہوں سناٹے ...

مزید پڑھیے

بارش کی رت تھی رات تھی پہلوئے یار تھا

بارش کی رت تھی رات تھی پہلوئے یار تھا یہ بھی طلسم گردش لیل و نہار تھا کہتے ہیں لوگ اوج پہ تھا موسم بہار دل کہہ رہا ہے عربدۂ زلف یار تھا اب تو وصال یار سے بہتر ہے یاد یار میں بھی کبھی فریب نظر کا شکار تھا تو میری زندگی سے بھی کترا کے چل دیا تجھ کو تو میری موت پہ بھی اختیار تھا او ...

مزید پڑھیے

انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا

انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کھلیں تو سامنے تھا اور تصور خدا کا ...

مزید پڑھیے

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے دل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتے لب ہی لب ہے تو کبھی اور کبھی چشم ہی چشم نقش تیرے تری صورت نہیں بننے دیتے یہ ستارے جو چمکتے ہیں پس ابر سیاہ تیرے غم کو مری عادت نہیں بننے دیتے ان کی جنت بھی کوئی دشت بلا ہی ہوگی زندہ رہنے کو جو لذت نہیں بننے ...

مزید پڑھیے

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیم دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ سرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی دل میں وہ زخم کھلے ہیں کہ چمن کیا شے ہے گھر میں بارات سی اتری ...

مزید پڑھیے

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا یہ ہے وہ جرم جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہوا اس گنہ پر مری اک عمر اندھیرے میں کٹی مجھ سے اس موت کے میلے میں چراغاں نہ ہوا کل جہاں پھول کھلے جشن ہے زخموں کا وہاں دل وہ گلشن ہے اجڑ کر بھی جو ویراں نہ ہوا آنکھیں کچھ اور دکھاتی ہیں مگر ذہن کچھ ...

مزید پڑھیے

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم بیدار ہو گئے کسی خواب گراں سے ہم اے نو بہار ناز تری نکہتوں کی خیر دامن جھٹک کے نکلے ترے گلستاں سے ہم پندار عاشقی کی امانت ہے آہ سرد یہ تیر آج چھوڑ رہے ہیں کماں سے ہم آؤ غبار راہ میں ڈھونڈیں شمیم ناز آؤ خبر بہار کی پوچھیں خزاں سے ہم آخر دعا ...

مزید پڑھیے

تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں

تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4400 سے 4657