شاعری

تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ

تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں ترے شعلۂ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا نہ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے عجب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں میری آنکھیں تیری صورت بھی ...

مزید پڑھیے

عجب سرور ملا ہے مجھے دعا کر کے

عجب سرور ملا ہے مجھے دعا کر کے کہ مسکرایا خدا بھی ستارہ وا کر کے گدا گری بھی اک اسلوب فن ہے جب میں نے اسی کو مانگ لیا اس سے التجا کر کے شب فراق کے ہر جبر کو شکست ہوئی کہ میں نے صبح تو کر لی خدا خدا کر کے یہ سوچ کر کہ کبھی تو جواب آئے گا میں اس کے در پہ کھڑا رہ گیا صدا کر کے یہ چارہ ...

مزید پڑھیے

میری محدود بصارت کا نتیجہ نکلا

میری محدود بصارت کا نتیجہ نکلا آسماں میرے تصور سے بھی ہلکا نکلا روز اول سے ہے فطرت کا رقیب آدم زاد دھوپ نکلی تو مرے جسم سے سایہ نکلا سر دریا تھا چراغاں کہ اجل رقص میں تھی بلبلا جب کوئی ٹوٹا تو شرارا نکلا بات جب تھی کہ سر شام فروزاں ہوتا رات جب ختم ہوئی صبح کا تارا نکلا مدتوں ...

مزید پڑھیے

ہر لمحہ اگر گریز پا ہے

ہر لمحہ اگر گریز پا ہے تو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے چلمن میں گلاب سنبھل رہا ہے یہ تو ہے کہ شوخی صبا ہے جھکتی نظریں بتا رہی ہیں میرے لیے تو بھی سوچتا ہے میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن چپ بھی تو بیان مدعا ہے ہر دیس کی اپنی اپنی بولی صحرا کا سکوت بھی صدا ہے اک عمر کے بعد مسکرا کر تو نے ...

مزید پڑھیے

اتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری رات (ردیف .. ی)

اتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری رات میری تاریخ کے سینے پہ اتر آئی تھی اپنی سنگینوں میں اس رات کی سفاک سپہ دودھ پیتے ہوئے بچوں کو پرو لائی تھی گھر کے آنگن میں رواں خون تھا گھر والوں کا اور ہر کھیت پہ شعلوں کی گھٹا چھائی تھی راستے بند تھے لاشوں سے پٹی گلیوں میں بھیڑ سی بھیڑ تھی ...

مزید پڑھیے

فنا کے دشت میں کب کا اتر گیا تھا میں

فنا کے دشت میں کب کا اتر گیا تھا میں تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو مر گیا تھا میں کسی کے دست ہنر نے مجھے سمیٹ لیا وگرنہ پات کی صورت بکھر گیا تھا میں وہ خوش جمال چمن سے گزر کے آیا تو مہک اٹھے تھے گلاب اور نکھر گیا تھا میں کوئی تو دشت سمندر میں ڈھل گیا آخر کسی کے ہجر میں رو رو کے بھر گیا ...

مزید پڑھیے

کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے

کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے خواب کی بنیاد پر تعمیر کرنا چاہیئے میں بھٹکتا پھر رہا ہوں واہموں کے درمیاں گرد لپٹی روح کی تطہیر کرنا چاہیئے جن دنوں دیوانگی ٹھہری ہوئی ہو ذات میں ایک دنیا ان دنوں تسخیر کرنا چاہیئے جس صدا میں سو طرح کے رنگ جھلمل کرتے ہوں وہ صدا ہر حال میں ...

مزید پڑھیے

مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے سو لگتا ہے کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے اسے چھو کر لبوں سے پھول جھڑنے لگ گئے ہیں مری آتش فشانی ختم ہوتی جا رہی ہے سلگتے دشت میں اب دھوپ سہنا پڑ گئی ہے تمہاری سائبانی ختم ہوتی جا رہی ہے ہمارا دل زمانے سے الجھنے لگ گیا ہے تمہاری حکمرانی ختم ہوتی جا ...

مزید پڑھیے

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے ہر مصیبت میں روانی سے نکل سکتا ہے تو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے شہر انکار کی پر پیچ سی ان گلیوں سے تو فقط عجز بیانی سے نکل سکتا ہے گردش دور ترے ساتھ چلے چلتا ہوں کام اگر نقل مکانی سے نکل سکتا ہے اے مری قوم ...

مزید پڑھیے

فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں

فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں تمام خلق کو حیرت سے مارتا ہوا میں دو چار سانس میں جیتا ہوں ایک عرصے تک ذرا سے وقت میں صدیاں گزارتا ہوا میں جو میرے سامنے ہے اور دل و دماغ میں بھی چہار سمت اسی کو پکارتا ہوا میں مرے نقوش پہ کاری گری رکی ہوئی ہے شکستہ چاک سے خود کو اتارتا ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4402 سے 4657