تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ
تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں ترے شعلۂ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا نہ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے عجب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں میری آنکھیں تیری صورت بھی ...