شاعری

عجیب رنگ ترے حسن کا لگاؤ میں تھا

عجیب رنگ ترے حسن کا لگاؤ میں تھا گلاب جیسے کڑی دھوپ کے الاؤ میں تھا ہے جس کی یاد مری فرد جرم کی سرخی اسی کا عکس مرے ایک ایک گھاؤ میں تھا یہاں وہاں سے کنارے مجھے بلاتے رہے مگر میں وقت کا دریا تھا اور بہاؤ میں تھا عروس گل کو صبا جیسے گدگدا کے چلی کچھ ایسا پیار کا عالم ترے سبھاؤ میں ...

مزید پڑھیے

ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیں

ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیں اس حال میں بھی رونق عالم کا سبب ہیں ظاہر میں ہم انسان ہیں مٹی کے کھلونے باطن میں مگر تند عناصر کا غضب ہیں ہیں حلقۂ زنجیر کا ہم خندۂ جاوید زنداں میں بسائے ہوئے اک شہر طرب ہیں چٹکی ہوئی یہ حسن گریزاں کی کلی ہے یا شدت جذبات سے کھلتے ہوئے لب ...

مزید پڑھیے

وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھے

وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھے شجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھے ابھی ابھی تمہیں سوچا تو کچھ نہ یاد آیا ابھی ابھی تو ہم اک دوسرے سے بچھڑے تھے تمہارے بعد چمن پر جب اک نظر ڈالی کلی کلی میں خزاں کے چراغ جلتے تھے تمام عمر وفا کے گناہ گار رہے یہ اور بات کہ ہم آدمی تو اچھے تھے شب ...

مزید پڑھیے

میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا

میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا ایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتا اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا اے خدا پھر یہ جہنم کا تماشا کیا ہے تیرا شہکار تو فی النار نہیں ہو سکتا اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہو سکتا تو ...

مزید پڑھیے

تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے گا

تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے گا گھر جو سلگا تو بھرا شہر بھی جل جائے گا سامنے آ کہ مرا عشق ہے منطق میں اسیر آگ بھڑکی تو یہ پتھر بھی پگھل جائے گا دل کو میں منتظر ابر کرم کیوں رکھوں پھول ہے قطرۂ شبنم سے بہل جائے گا موسم گل اگر اس حال میں آیا بھی تو کیا خون گل چہرۂ گلزار پہ مل ...

مزید پڑھیے

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر ...

مزید پڑھیے

شام کو صبح چمن یاد آئی

شام کو صبح چمن یاد آئی کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی جب خیالوں میں کوئی موڑ آیا تیرے گیسو کی شکن یاد آئی یاد آئے ترے پیکر کے خطوط اپنی کوتاہیٔ فن یاد آئی چاند جب دور افق پر ڈوبا تیرے لہجے کی تھکن یاد آئی دن شعاعوں سے الجھتے گزرا رات آئی تو کرن یاد آئی

مزید پڑھیے

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ چلی آتی ہے وہ موج صبا آہستہ آہستہ ذرا وقفہ سے نکلے گا مگر نکلے گا چاند آخر کہ سورج بھی تو مغرب میں چھپا آہستہ آہستہ کوئی سنتا تو اک کہرام برپا تھا ہواؤں میں شجر سے ایک پتا جب گرا آہستہ آہستہ ابھی سے حرف رخصت کیوں جب آدھی رات باقی ہے گل و شبنم تو ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح سایۂ ابر کی مانند ...

مزید پڑھیے

تنگ آ جاتے ہیں دریا جو کہستانوں میں

تنگ آ جاتے ہیں دریا جو کہستانوں میں سانس لینے کو نکل جاتے ہیں میدانوں میں خیر ہو دشت نوردان محبت کی اب شہر بستے چلے جاتے ہیں بیابانوں میں اب تو لے لیتا ہے باطن سے یہی کام جنوں نظر آتے نہیں اب چاک گریبانوں میں مال چوری کا جو تقسیم کیا چوروں نے نصف تو بٹ گیا بستی کے نگہبانوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4399 سے 4657