شاعری

گل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں

گل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جان حیا دل کی لو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں حسن بیگانۂ احساس جمال اچھا ہے غنچے کھلتے ہیں تو بک جاتے ہیں بازاروں میں ذکر کرتے ہیں ترا مجھ سے بعنوان جفا چارہ گر پر پرو لائے ...

مزید پڑھیے

مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں

مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں ندیمؔ کاش یہی ایک کام کر جاؤں یہ دشت ترک محبت یہ تیرے قرب کی پیاس جو اذن ہو تو تری یاد سے گزر جاؤں مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں ترے جمال کا پرتو ہے سب حسینوں پر کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کدھر کدھر جاؤں میں ...

مزید پڑھیے

چاند اس رات بھی نکلا تھا مگر اس کا وجود (ردیف .. ش)

چاند اس رات بھی نکلا تھا مگر اس کا وجود اتنا خوں رنگ تھا جیسے کسی معصوم کی لاش تارے اس رات بھی چمکے تھے مگر اس ڈھب سے جیسے کٹ جائے کوئی جسم حسیں قاش بہ قاش اتنی بے چین تھی اس رات مہک پھولوں کی جیسے ماں جس کو ہو کھوئے ہوئے بچے کی تلاش پیڑ چیخ اٹھتے تھے امواج ہوا کی زد میں نوک ...

مزید پڑھیے

کہیں وہ میری محبت میں گھل رہا ہی نہ ہو

کہیں وہ میری محبت میں گھل رہا ہی نہ ہو خدا کرے اسے یہ تجربہ ہوا ہی نہ ہو سپردگی مرا معیار تو نہیں لیکن میں سوچتا ہوں ترے روپ میں خدا ہی نہ ہو میں تجھ کو پا کے بھی کس شخص کی تلاش میں ہوں مرے خیال میں کوئی ترے سوا ہی نہ ہو وہ عذر کر کہ مرے دل کو بھی یقیں آئے وہ گیت گا کہ جو میں نے ...

مزید پڑھیے

آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیں

آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیں میں سحر ہوں میں اجالا ہوں حقیقت ہوں میں میں محبت کا تو دیتا ہوں محبت سے جواب لیکن اعدا کے لئے قہر و قیامت ہوں میں مرا دشمن مجھے للکار کے جائے گا کہاں خاک کا طیش ہوں افلاک کی دہشت ہوں میں

مزید پڑھیے

ہمیشہ ظلم کے منظر ہمیں دکھائے گئے

ہمیشہ ظلم کے منظر ہمیں دکھائے گئے پہاڑ توڑے گئے اور محل بنائے گئے طلوع صبح کی افواہ اتنی عام ہوئی کہ نصف شب کو گھروں کے دیے بجھائے گئے اب ایک بار تو قدرت جواب دہ ٹھہرے ہزار بار ہم انسان آزمائے گئے فلک کا طنطنہ بھی ٹوٹ کر زمیں پہ گرا ستون ایک گھروندے کے جب گرائے گئے تری خدائی ...

مزید پڑھیے

احساس میں پھول کھل رہے ہیں

احساس میں پھول کھل رہے ہیں پت جھڑ کے عجیب سلسلے ہیں کچھ اتنی شدید تیرگی ہے آنکھوں میں ستارے تیرتے ہیں دیکھیں تو ہوا جمی ہوئی ہے سوچیں تو درخت جھومتے ہیں سقراط نے زہر پی لیا تھا ہم نے جینے کے دکھ سہے ہیں ہم تجھ سے بگڑ کے جب بھی اٹھے پھر تیرے حضور آ گئے ہیں ہم عکس ہیں ایک دوسرے ...

مزید پڑھیے

جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھے

جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھے منافعے تھے محبت میں نے خسارے تھے حضور شاہ بس اتنا ہی عرض کرنا ہے جو اختیار تمہارے تھے حق ہمارے تھے یہ اور بات بہاریں گریز پا نکلیں گلوں کے ہم نے تو صدقے بہت اتارے تھے خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے اب اذن ...

مزید پڑھیے

قرار جاں بھی تمہی اضطراب جاں بھی تمہی

قرار جاں بھی تمہی اضطراب جاں بھی تمہی مرا یقیں بھی تمہی ہو مرا گماں بھی تمہی تمہاری جان ہے نکہت تمہارا جسم بہار مری غزل بھی تمہی میری داستاں بھی تمہی یہ کیا طلسم ہے دریا میں بن کے عکس قمر رکے ہوئے بھی تمہی ہو رواں دواں بھی تمہی خدا کا شکر مرا راستہ معین ہے کہ کارواں بھی تمہی ...

مزید پڑھیے

پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے

پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے ہائے خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئنے کی چادریں پھیلا گئے کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے ان کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا اور جب پلٹے قیامت ڈھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4398 سے 4657