شاعری

محفل محفل سناٹے ہیں

محفل محفل سناٹے ہیں درد کی گونج پہ کان دھرے ہیں دل تھا شور تھا ہنگامے تھے یارو ہم بھی تم جیسے ہیں موج ہوا میں آگ بھری ہے بہتے دریا کھول اٹھے ہیں ارمانوں کے نرم شگوفے شاخوں کے ہمراہ جلے ہیں یہ جو ڈھیر ہیں یہ جو کھنڈر ہیں ماضی کی گلیاں کوچے ہیں جن کو دیکھنا بس میں نہیں تھا ایسے ...

مزید پڑھیے

طویل راتوں کی خامشی میں مری فغاں تھک کے سو گئی ہے

طویل راتوں کی خامشی میں مری فغاں تھک کے سو گئی ہے تمہاری آنکھوں نے جو کہی تھی وہ داستاں تھک کے سو گئی ہے گلا نہیں تجھ سے زندگی کے وہ زاویے ہی بدل چکے ہیں مری وفا وہ ترے تغافل کی نوحہ خواں تھک کے سو گئی ہے مرے خیالوں میں آج بھی خواب عہد رفتہ کے جاگتے ہیں تمہارے پہلو میں کاہش یاد ...

مزید پڑھیے

غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی

غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی نظر فریب تھی تیری جمال آرائی وہ داستاں جو تری دل کشی نے چھیڑی تھی ہزار بار مری سادگی نے دہرائی فسانے عام سہی میری چشم حیراں کے تماشا بنتے رہے ہیں یہاں تماشائی تری وفا تری مجبوریاں بجا لیکن یہ سوزش غم ہجراں یہ سرد تنہائی کسی کے حسن تمنا کا پاس ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی بتلائے کہ کیا ہیں یارو

کوئی بتلائے کہ کیا ہیں یارو ہم بگولے کہ ہوا ہیں یارو تنگ ہے وسعت صحرائے‌ جنوں ولولے دل کے سوا ہیں یارو سرد و بے رنگ ہے ذرہ ذرہ گرمئ رنگ صدا ہیں یارو شبنمستان گل نغمہ میں نکہت‌ صبح وفا ہیں یارو جلنے والوں کے جگر ہیں دل ہیں کھلنے والوں کی ادا ہیں یارو جن کے قدموں سے ہیں گلزار ...

مزید پڑھیے

کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا

کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا روزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کا ان کا وہ شوخیوں سے پھڑکنا پلنگ پر وہ چھاتیوں پہ لوٹنا پھولوں کے ہار کا حور آئے خلد سے تو بٹھاؤں کہاں اسے آراستہ ہو ایک تو کونا مزار کا شیشوں نے طرز اڑائی رکوع و قیام کی کیا ان میں ہے لہو کسی پرہیزگار کا کیوں ...

مزید پڑھیے

شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے

شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے کبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئے ہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے یہ الٰہی کیسا غضب ہوا وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے مرا دل بنے تو تڑپ گئے مرا سر بنے تو جدا ...

مزید پڑھیے

روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ

روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ کیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغ کچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال ہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ دود‌ افغان و رگ جان و سویدا دل میں ہے بند ہے قندیل کے اندر دھواں بتی چراغ طور پر جا کر چراغ طور کیوں دیکھے ...

مزید پڑھیے

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب اک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراب کیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خراب میں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب جی میں یہ ہے کہ دل ہی کو سجدے کیا کروں دیر و حرم میں لوگ ہیں اے جان من خراب نازک دلوں کا حسن ہے رنگ شکستگی پھٹنے سے کب گلوں کا ہوا پیرہن ...

مزید پڑھیے

زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے

زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے میں جو فریاد کروں غل ٹھہرے نغمۂ کن کے کرشمے دیکھو کہیں قم قم کہیں قلقل ٹھہرے جال میں کاتب اعمال پھنسیں دوش پر آ کے جو کاکل ٹھہرے رات دن رہتی ہے گردش ان کو چاند سورج قدح مل ٹھہرے میرا کہنا ترا سننا معلوم جنبش لب ہی اگر گل ٹھہرے جان کر بھی وہ نہ جانیں مجھ ...

مزید پڑھیے

ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم

ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم دیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہم غیر کو گر وہ پیار کریں گے اپنے لہو میں ہوں گے تر ہم ڈال ہی دیں گے ان کے قدم پر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے سر ہم صلح ہوئی تو نالے کھینچے یوں کرتے ہیں سب کو خبر ہم پیٹتے ہیں سینے کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4394 سے 4657