شاعری

لمحہ لمحہ شمار کون کرے

لمحہ لمحہ شمار کون کرے عمر بھر انتظار کون کرے کوئی وعدہ بھی تو وفا نہ ہوا بے وفاؤں سے پیار کون کرے شب تیرہ و تار کا دامن دیکھیے تار تار کون کرے دوستی ایک لفظ بے معنی کس پہ اب انحصار کون کرے اے غم دوست تیرے ہوتے ہوئے غم لیل و نہار کون کرے تیرے اس درد لا دوا کا علاج دل زار و نزار ...

مزید پڑھیے

میں دل زدہ ہوں اگر دل فگار وہ بھی ہیں

میں دل زدہ ہوں اگر دل فگار وہ بھی ہیں کہ درد عشق کے اب دعویدار وہ بھی ہیں ہوا ہے جن کے کرم سے دل و نظر کا زیاں بہ فیض وقت مرے غم گسار وہ بھی ہیں شہید جذبوں کی فہرست کیا مرتب ہو شمار میں جو نہیں بے شمار وہ بھی ہیں دل تباہ! یہ آثار ہیں قیامت کے رہین گردش لیل و نہار وہ بھی ہیں حریم ...

مزید پڑھیے

دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے

دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے دوستو وہ تو قیامت کی گھڑی ہوتی ہے جس طرف جائیں جہاں جائیں بھری دنیا میں راستہ روکے تری یاد کھڑی ہوتی ہے جس نے مر مر کے گزاری ہو یہ اس سے پوچھو ہجر کی رات بھلا کتنی کڑی ہوتی ہے ہنستے ہونٹوں سے بھی جھڑتے ہیں فسانے غم کے خشک آنکھوں میں بھی ساون کی ...

مزید پڑھیے

عام ہے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات

عام ہے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات اب سر راہ بھی ہوتی ہے سر دار کی بات ہم جو کرتے ہیں کہیں مصر کے بازار کی بات لوگ پا لیتے ہیں یوسف کے خریدار کی بات مدتوں لب پہ رہی نرگس بیمار کی بات کیجیے اہل چمن اب خلش خار کی بات غنچے دل تنگ ہوا بند نشیمن ویراں باعث مرگ ہے میرے لیے غم خوار کی ...

مزید پڑھیے

کبھی حیات کا غم ہے کبھی ترا غم ہے

کبھی حیات کا غم ہے کبھی ترا غم ہے ہر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ہے خیال تھا ترے پہلو میں کچھ سکوں ہوگا مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ہے مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا خدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہے سحر سے رشتۂ امید باندھنے والے چراغ زیست کی لو شام ہی سے مدھم ہے یہ کس مقام پہ ...

مزید پڑھیے

طویل راتوں کی خامشی میں مری فغاں تھک کے سو گئی ہے

طویل راتوں کی خامشی میں مری فغاں تھک کے سو گئی ہے تمہاری آنکھوں نے جو کہی تھی وہ داستاں تھک کے سو گئی ہے مرے خیالوں میں آج بھی خواب عہد رفتہ کے جاگتے ہیں تمہارے پہلو میں کاہش یاد پاستاں تھک کے سو گئی ہے گلا نہیں تجھ سے زندگی کے وہ نظریے ہی بدل گئے ہیں مری وفا وہ ترے تغافل کی نوحہ ...

مزید پڑھیے

دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے

دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے درد کے ماروں سے اب بات کہاں ہوتی ہے ایک سے چہرے تو ہوتے ہیں کئی دنیا میں ایک سی صورت حالات کہاں ہوتی ہے زندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہے مل تو جاتے ہیں ملاقات کہاں ہوتی ہے آسمانوں سے کوئی بوند نہیں برسے گی جلتے صحراؤں میں برسات کہاں ہوتی ...

مزید پڑھیے

وہ بے نیاز مجھے الجھنوں میں ڈال گیا

وہ بے نیاز مجھے الجھنوں میں ڈال گیا کہ جس کے پیار میں احساس ماہ و سال گیا ہر ایک بات کے یوں تو دیے جواب اس نے جو خاص بات تھی ہر بار ہنس کے ٹال گیا کئی سوال تھے جو میں نے سوچ رکھے تھے وہ آ گیا تو مجھے بھول ہر سوال گیا جو عمر جذبوں کا سیلاب بن کے آئی تھی گزر گئی تو لگا دور اعتدال ...

مزید پڑھیے

کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے

کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے سرد پڑتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتا ہے دل افسردہ کا ہر گوشہ چھنک اٹھتا ہے ذہن جب یادوں کی زنجیر ہلا دیتا ہے حال دل کتنا ہی انسان چھپائے یارو حال دل اس کا تو چہرہ ہی بتا دیتا ہے کسی بچھڑے ہوئے کھوئے ہوئے ہم دم کا خیال کتنے سوئے ہوئے جذبوں کو جگا ...

مزید پڑھیے

جس راہ سے بھی گزر گئے ہم

جس راہ سے بھی گزر گئے ہم ہر دل کو گداز کر گئے ہم جلوے تھے کسی کے کار فرما ہر نقش میں رنگ بھر گئے ہم کیا جانیے کیا تھا اس نظر میں الجھے تو سنور سنور گئے ہم ہم بھانپ گئے تھے رنگ محفل کہنے کو تو بے خبر گئے ہم ہر دل تھا اداسیوں کا معبد ہر گام ٹھہر ٹھہر گئے ہم بے مہریٔ دوست تلخی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4393 سے 4657