حسن بازار تو ہے گرمئ بازار نہیں
حسن بازار تو ہے گرمئ بازار نہیں بیچنے والے ہیں سب کوئی خریدار نہیں آؤ بتلائیں کہ وعدوں کی حقیقت کیا ہے پیڑ اونچے ہیں سبھی کوئی ثمر دار نہیں دل کی افتاد مزاجی سے پریشاں ہوں میں تھی طلب جس کی اب اس کا ہی طلب گار نہیں اب جسے دیکھو وہی گھوم رہا ہے باندھے دستیاب اب کسی دوکان پہ ...