شاعری

دل کے ویران راستے بھی دیکھ

دل کے ویران راستے بھی دیکھ آنکھ کی مار سے پرے بھی دیکھ چار سو گونجتے ہیں سناٹے کبھی سنسان مقبرے بھی دیکھ کانپتی ہیں لویں چراغوں کی روشنی کو قریب سے بھی دیکھ سوزش فرقت مسلسل سے آنچ دیتے ہیں قہقہے بھی دیکھ بند ہونٹوں کی نغمگی بھی سن سوتی آنکھوں کے رت جگے بھی دیکھ دیکھنا ہو ...

مزید پڑھیے

کبھی تری کبھی اپنی حیات کا غم ہے

کبھی تری کبھی اپنی حیات کا غم ہے ہر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ہے خیال تھا ترے پہلو میں کچھ سکوں ہوگا مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ہے مرے مذاق الم آشنا کا کیا ہوگا تری نگاہ میں شعلے ہیں اب نہ شبنم ہے سحر سے رشتۂ امید باندھنے والے چراغ زیست کی لو شام ہی سے مدھم ہے یہ کس مقام ...

مزید پڑھیے

گردش جام نہیں گردش ایام تو ہے

گردش جام نہیں گردش ایام تو ہے سعیٔ ناکام سہی پھر بھی کوئی کام تو ہے دل کی بیتابی کا آخر کہیں انجام تو ہے میری قسمت میں نہیں دہر میں آرام تو ہے مائل لطف و کرم حسن دل آرام تو ہے میری خاطر نہ سہی کوئی سر بام تو ہے تو نہیں میرا مسیحا مرا قاتل ہی سہی مجھ سے وابستہ کسی طور ترا نام تو ...

مزید پڑھیے

قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے

قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے آج محفل میں ترے نام پہ پیمانے چلے ابھی تو نے دل شوریدہ کو دیکھا کیا ہے موج میں آئے تو طوفانوں سے ٹکرانے چلے دیکھیں اب رہتا ہے کس کس کا گریباں ثابت چاک دل لے کے تری بزم سے دیوانے چلے پھر کسی جشن چراغاں کا گماں ہے شاید آج ہر سمت سے پر سوختہ پروانے ...

مزید پڑھیے

جنہیں راس آ گئے ہیں یہ سحر نما اندھیرے

جنہیں راس آ گئے ہیں یہ سحر نما اندھیرے یہ تلاش صبح نو میں کبھی ہم سفر تھے میرے تھیں جو قتل گاہیں ان کی ہیں وہی قیام گاہیں تھے جو رہزنوں کے مسکن ہیں وہ رہبروں کے ڈیرے میں جہان بے دلی میں کہاں لے کے جاؤں دل کو مرے دل کی گھات میں ہیں یہاں چار سو لٹیرے اے شبوں کے پاسبانوں میں یہ تم ...

مزید پڑھیے

قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے

قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے زمانہ ساز تو کرتے ہیں ہم نہیں کرتے تمہاری زلف کو سلجھائیں گے وہ دیوانے جو اپنے چاک گریباں کا غم نہیں کرتے اتر چکا ہے رگ و پے میں زہر غم پھر بھی بہ پاس‌ عہد وفا چشم نم نہیں کرتے یہ اپنا دل ہے کہ اس حال میں بھی زندہ ہیں ستم کچھ اہل ستم ہم پہ کم نہیں ...

مزید پڑھیے

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا کون ہوتا ہے کسی کا شب تنہائی میں غم فرقت ہی غم عشق کو بہلائے گا چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا راگ میں آگ دبی ہے غم محرومی کی راکھ ہوکر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا وقت ...

مزید پڑھیے

جو تیز دوڑتے تھے بہت جلد تھک گئے

جو تیز دوڑتے تھے بہت جلد تھک گئے ہم دھیرے دھیرے چلتے ہوئے دور تک گئے اترن پہن کے شاہ کی خوش ہیں مصاحبین سورج سے بھیک مانگ کے ذرے چمک گئے یاروں نے زخم دل کا مرے یوں کیا علاج آئے تھے خون پونچھنے رکھ کر نمک گئے آنکھوں کو انتظار میں پردے پہ ٹانک کر چوکھٹ سے پوسٹر کی طرح ہم چپک ...

مزید پڑھیے

وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا

وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا وہ اک چراغ جو جلنے میں بھی بے مثال رہا کبھی بھلا نہ سکا دل شکستگی اپنی جڑا تو جڑ کے بھی اس آئنے میں بال رہا مری حیات نے حاتم بنا دیا مجھ کو ہر اک سوال کے بعد اک نیا سوال رہا ہمیشہ میں نے بھی ناکامیوں سے کام لیا تمام عمر مرا میرؔ جیسا حال ...

مزید پڑھیے

کسی کی زیست کا بس ایک باب سناٹا

کسی کی زیست کا بس ایک باب سناٹا کسی کے واسطے پورا نصاب سناٹا ہے اس کو لفظ سے مطلب مجھے معانی سے ہے اس کا شور مرا انتخاب سناٹا درون خانہ کی ویرانیاں کچھ ایسی تھیں برون خانہ ہوا آب آب سناٹا مجھے پتہ ہے کہانی کا اختتام ہے کیا طویل بات کا لب لباب سناٹا مری خموشی پہ انگلی اٹھاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4391 سے 4657