شاعری

عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں

عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں ہوش کا سرمایہ نذر حسن بے پروا کریں ہم نہ ہوں لیکن زمانے میں ہمارا نام ہو ایسی ہستی چاہیئے تو مر کے ہم پیدا کریں ہے خود آرائی کسی کی شان خودداری کے ساتھ یعنی ان کو ہم نہ دیکھیں وہ ہمیں دیکھا کریں درس عرفاں کے لیے ہر ذرہ ہے طور کلیم دیکھنے ...

مزید پڑھیے

یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی

یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی وہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتی خلش جگر میں ہے دل کو خبر نہیں ہوتی چبھی ہے پھانس ادھر سے ادھر نہیں ہوتی عبث ہی کل کے لئے التوائے مشق خرام قیامت آج ہی کیوں فتنہ گر نہیں ہوتی جو ان سے دور ہے اس کے لئے ہیں چشم براہ ہم ان کے پاس ہیں ہم پر نظر نہیں ...

مزید پڑھیے

چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا

چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا جس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانا کسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا روح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا موت ہی آپ کے بیمار کی قسمت میں نہ تھی ورنہ کب زہر کا ممکن تھا دوا ہو جانا اپنے پہلو میں تجھے دیکھ کے حیرت ہے مجھے خرق عادت ہے ترا وعدہ وفا ہو ...

مزید پڑھیے

مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے

مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے سو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائے اس طرح قرب ترا اور بھی آساں ہو جائے میرا ایک ایک نفس کاش رگ جاں ہو جائے وہ کبھی صحن چمن میں جو خراماں ہو جائے غنچہ بالیدہ ہو اتنا کہ گلستاں ہو جائے عشق کا کوئی نتیجہ تو ہو اچھا کہ برا زیست مشکل ہے تو ...

مزید پڑھیے

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے فغاں تو عشق کی اک مشق ابتدائی ہے ابھی تو اور بڑھے گی یہ لے ابھی کیا ہے تمام عمر اسی رنج میں تمام ہوئی کبھی یہ تم نے نہ پوچھا تری خوشی کیا ہے تم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا زمانہ کیا ہے فلک کیا ہے مدعی ...

مزید پڑھیے

ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہے

ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہے تو بہ لب پر اور لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہے روک لے اے ضبط جو آنسو کہ چشم تر میں ہے کچھ نہیں بگڑا ہے اب تک گھر کی دولت گھر میں ہے دب گیا تھا میرے مرنے سے جو اے محشر خرام کیا وہی خوابیدہ فتنہ صورت محشر میں ہے جس کو تو چاہے جلا دے جس کو چاہے مار ...

مزید پڑھیے

باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا

باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا کوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیا اتنی سی بات پر کہ ہوئی شمع بے حجاب تیار جان دینے کو پروانہ ہو گیا تنگ آ گیا ہوں وسعت مفہوم عشق سے نکلا جو حرف منہ سے وہ افسانہ ہو گیا ہر دل میں یاد بن کے چھپے ہیں بتان عشق اللہ تیرا گھر بھی صنم خانہ ہو گیا فارغ ...

مزید پڑھیے

کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا

کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا یہ رنگ ملاقات سمجھ میں نہیں آتا کیا داد سخن ہم تمہیں دیں حضرت ناصح ہے سو کی یہ اک بات سمجھ میں نہیں آتا شیخ اور بھلائی سے کرے تذکرہ تیرا اے پیر خرابات سمجھ میں نہیں آتا سایہ بھی شب ہجر کی ظلمت میں چھپا ہے اب کس سے کریں بات سمجھ میں نہیں ...

مزید پڑھیے

جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا

جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا حسرتوں کا رات دن ماتم رہا ہجر میں دل کا نہ تھا ساتھی کوئی درد اٹھ اٹھ کر شریک غم رہا کر کے دفن اپنے پرائے چل دیے بیکسی کا قبر پر ماتم رہا سیکڑوں سر تن سے کر ڈالے جدا ان کے خنجر کا وہی دم خم رہا آج اک شور قیامت تھا بپا تیرے کشتو کا عجب عالم ...

مزید پڑھیے

کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہے

کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہے ساری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہے درد نے کھوے ہوئے دل کی جگہ پائی ہے اک بلا سر سے گئی ایک بلا آئی ہے جاں نثاروں کو سہارا جو نہ جینے کا ملا کوئے قاتل میں قضا کھینچ کے لے آئی ہے میں چھپاتا ہوں غم عشق تو بنتا نہیں کام اور کہتا ہوں تو گویا مری رسوائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4373 سے 4657