عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں
عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں ہوش کا سرمایہ نذر حسن بے پروا کریں ہم نہ ہوں لیکن زمانے میں ہمارا نام ہو ایسی ہستی چاہیئے تو مر کے ہم پیدا کریں ہے خود آرائی کسی کی شان خودداری کے ساتھ یعنی ان کو ہم نہ دیکھیں وہ ہمیں دیکھا کریں درس عرفاں کے لیے ہر ذرہ ہے طور کلیم دیکھنے ...