شاعری

میرے ہم راہ ستارے کبھی جگنو نکلے

میرے ہم راہ ستارے کبھی جگنو نکلے جستجو میں تری ہر رات مہم جو نکلے تیری روتی ہوئی آنکھیں ہیں مری آنکھوں میں ورنہ پتھر میں کہاں جان کہ آنسو نکلے سانس لینے کی جسارت بھی نہ کر پاؤں گا جسم سے میرے جو پل بھر کے لئے تو نکلے اہل دل یونہی تر و تازہ نہیں رکھتے انہیں زخم بھر جائیں تو ممکن ...

مزید پڑھیے

تہی دامن برہنہ پا روانہ ہو گیا ہوں

تہی دامن برہنہ پا روانہ ہو گیا ہوں تباہی چل ترے شانہ بہ شانہ ہو گیا ہوں تری رفتار پر قربان جاؤں اے ترقی میں اپنے عہد میں گزرا زمانہ ہو گیا ہوں میرے اطراف رہتا ہے ہجوم نا مرادی جبین نارسا میں آستانہ ہو گیا ہوں ہوا کی تان پر گاتے ہیں مجھ کو خشک پتے میں ہر ٹوٹے ہوئے دل کا ترانہ ہو ...

مزید پڑھیے

اک سایہ میرے جیسا ہے

اک سایہ میرے جیسا ہے جو میرا پیچھا کرتا ہے اب شور سے عاجز سناٹا کانوں میں باتیں کرتا ہے اک موڑ ہے رستے کے آگے اس موڑ کے آگے رستہ ہے میں ایک ٹھکانہ ڈھونڈتا ہوں جو صحرا ہے نہ ہی دریا ہے اک خواب کی وحشت ہے جس میں خود کو ہی مرتے دیکھا ہے یہ قصہ جھوٹ سہی لیکن سننے میں اچھا لگتا ہے

مزید پڑھیے

حادثہ کون سا ہوا پہلے

حادثہ کون سا ہوا پہلے رات آئی کہ دن ڈھلا پہلے اب میں پانی تلاش کرتا ہوں بھوک تھی میرا مسئلہ پہلے خواب تھے میری دسترس میں دو میں نے دیکھا تھا دوسرا پہلے اب تو وہ بھی نظر نہیں آتا دکھ رہا تھا جو راستہ پہلے اب تو یہ بھی قدیم لگتا ہے کس قدر شہر تھا نیا پہلے اس سے پہلے کہ ٹوٹتی ...

مزید پڑھیے

علاج حسرت دلگیر کر رہا ہوں میں

علاج حسرت دلگیر کر رہا ہوں میں مقدرات کی تعمیر کر رہا ہوں میں تصورات کی کرچیں سمیٹ کر ایک اک بریدہ خواب کی تفسیر کر رہا ہوں میں کہ گوندھ کر مہ تاباں کی ضو فشاں کرنیں علاج ظلمت بے پیر کر رہا ہوں میں جگا کے فہم کی لو ذہن کے دریچوں میں نئے نظام کو تحریر کر رہا ہوں میں یہ عزم ہے کہ ...

مزید پڑھیے

جو جو شعور ذہن پہ آتا چلا گیا

جو جو شعور ذہن پہ آتا چلا گیا دل کلفتوں کے داغ مٹاتا چلا گیا لا کر بہار نو کے گل ندرت خیال صحرا کو میں چمن سا بناتا چلا گیا اللہ کا یہ فضل ہے مجھ پہ کہ بحر علم کوزے سے میرے دل میں سماتا چلا گیا الفاظ کے گہر سے غزل کی زمیں کو میں جیسے فلک نژاد بنتا چلا گیا تار نفس پہ چھیڑ کے اک ...

مزید پڑھیے

گر گئی چلمن اگر توبہ ضرور

گر گئی چلمن اگر توبہ ضرور آپ کی قاتل نظر توبہ ضرور دیکھ کر ایسی تجلی نور کی کیسا شرمایا قمر توبہ ضرور اتنی وسعت میں سما سکتا نہیں آپ کا دل میرا گھر توبہ ضرور بس خلا ہی میں قلعہ تخلیق کا ریت کے دلدل میں گھر توبہ ضرور آپ کہ الفت میں صحرا میں پھروں خواب بھی دیکھیں اگر توبہ ...

مزید پڑھیے

سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں

سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں تیرے قدموں میں ہوں لیکن تیری محفل میں نہیں راہ الفت کا نشاں یہ ہے کہ وہ ہے بے نشاں جادہ کیسا نقش پا تک کوئی منزل میں نہیں کھو چکے رو رو کے گھر باہر کی ساری کائنات اشک کیسے آنکھ میں اب خون بھی دل میں نہیں بزم آرائی سے پہلے دیکھ او نادان ...

مزید پڑھیے

قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہو

قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہو مطلب یہ ہے کہ بات نہ ہو اور کلام ہو باقی ہے شوق راہ میں کیوں کر قیام ہو ہاتھ آئیں ان کے پاؤں تو منزل تمام ہو کیا خوش ہو دل کہ ہے وہ جفا جو زمیں سے دور تم کیسے آسمان کے قائم مقام ہو فرماں روائے حسن کو ہوتا نہیں فروغ جب تک نہ عشق اس کا مدار المہام ...

مزید پڑھیے

اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا

اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا ناعاقبت اندیش رہے گا نہ کہیں کا دنیا کا رہا ہے دل ناکام نہ دیں کا اس عشق بد انجام نے رکھا نہ کہیں کا ہیں تاک میں اک شوخ کی دزدیدہ نگاہیں اللہ نگہبان ہے اب جان حزیں کا حالت دل بیتاب کی دیکھی نہیں جاتی بہتر ہے کہ ہو جائے یہ پیوند زمیں کا گو قدر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4372 سے 4657