جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے ...