شاعری

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے ...

مزید پڑھیے

بندے زمین اور آسماں سرما کی شب کہانیاں

بندے زمین اور آسماں سرما کی شب کہانیاں سچی ہیں یہ رفاقتیں باقی ہیں سب کہانیاں خیمے اکھڑ اجڑ گئے ایسی ہوائے شب چلی کرنیں زمیں پہ لکھ گئیں کیسی عجب کہانیاں وسعت دشت کے مکیں وادی میں کوچ کر گئے شاخوں پہ برف لکھ گئی نغمہ بہ لب کہانیاں چاند کی خاک آ گئی پیروں تلے حیات کے ایسی کٹھن ...

مزید پڑھیے

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے سب خرد مند بنے پھرتے تھے ماشاء اللہ بس ترے شہر میں اک صاحب وحشت ہم تھے نام بخشا ہے تجھے کس کے وفور غم نے گر کوئی تھا تو ترے مجرم شہرت ہم تھے اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو وہ بھی دن تھے کہ کبھی ...

مزید پڑھیے

بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ

بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ کس نگری میں آ نکلے ہیں ساجدؔ ہم دیوانے لوگ ایک ہمی ناواقف ٹھہرے روپ نگر کی گلیوں سے بھیس بدل کر ملنے والے سب جانے پہچانے لوگ دن کو رات کہیں سو برحق صبح کو شام کہیں سو خوب آپ کی بات کا کہنا ہی کیا آپ ہوئے فرزانے لوگ شکوہ کیا اور کیسی ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری

ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری خود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میری بھیڑ میں بھی تمہیں مل جاؤں گا آسانی سے کھویا کھویا ہوا رہنا ہے نشانی میری میں نے اک بار کہا تھا کہ بہت پیاسا ہوں تب سے مشہور ہوئی تشنہ دہانی میری یہی دیوار و در و بام تھے میرے ہم راز انہی گلیوں میں ...

مزید پڑھیے

طلسم زار شب ماہ میں گزر جائے

طلسم زار شب ماہ میں گزر جائے اب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائے عجب نشہ ہے ترے قرب میں کہ جی چاہے یہ زندگی تری آغوش میں گزر جائے میں تیرے جسم میں کچھ اس طرح سما جاؤں کہ تیرا لمس مری روح میں اتر جائے مثال برگ خزاں ہے ہوا کی زد پہ یہ دل نہ جانے شاخ سے بچھڑے تو پھر کدھر جائے میں یوں ...

مزید پڑھیے

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے تجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہے مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم یہ ہوائے شام ہجراں مجھے راس ہے تو کیوں ہے تجھے کھو کے سوچتا ہوں مرے دامن طلب میں کوئی خواب ہے تو کیوں ہے کوئی آس ہے تو کیوں ہے میں اجڑ کے بھی ہوں ...

مزید پڑھیے

آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیا

آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیا کل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیا ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آ گئے دیکھ تیرا قصر عالی شان خالی کر دیا دشمنوں نے شست باندھی خیمۂ امید پر دوستوں نے درۂ امکان خالی کر دیا بانٹنے نکلا ہے وہ پھولوں کے تحفے شہر میں اس خبر پر ہم نے بھی گلدان ...

مزید پڑھیے

کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگی

کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگی کہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگی کہا: ہم کیا کریں اس عہد نا پرساں میں کچھ کہیے وہ بولے کوئی آخر صورت اظہار تو ہوگی کہا: ہم اپنی مرضی سے سفر بھی کر نہیں سکتے وہ بولے ہر قدم پر اک نئی دیوار تو ہوگی کہا: آنکھیں نہیں اس غم میں بینائی بھی جاتی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا

مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا اکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گا کسی کو کیا پڑی ہے میری خاطر خود کو زحمت دے پریشاں ہیں سبھی کیسے کوئی مجھ کو سنبھالے گا ابھی تاریخ نامی ایک جادوگر کو آنا ہے جو زندہ شہر اور اجسام کو پتھر میں ڈھالے گا بس اگلے موڑ پر منزل تری آنے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4328 سے 4657