شاعری

میرے اندر جو اک فقیری ہے

میرے اندر جو اک فقیری ہے یہ ہی سب سے بڑی امیری ہے کچھ نہیں ہے مگر سبھی کچھ ہے دیکھ کیسی جہان گیری ہے پنکھڑی اک گلاب کے جیسی میرے شعروں میں ایسی میری ہے شعر کہتا ہے بیچ دیتا ہے تجھ میں کیسی یہ لا ضمیری ہے تجھ سے رشتہ کبھی نہیں سلجھا اس کی فطرت ہی کاشمیری ہے روح اور جسم سرخ ہیں ...

مزید پڑھیے

لگا کے دھڑکن میں آگ میری برنگ رقص شرر گیا وہ

لگا کے دھڑکن میں آگ میری برنگ رقص شرر گیا وہ مجھے بنا کے سلگتا صحرا مرے جہاں سے گزر گیا وہ یوں نیند سے کیوں مجھے جگا کر چراغ امید پھر جلا کر ہوئی سحر تو اسے بجھا کر ہوا کے جیسا گزر گیا وہ وہ ریت پر اک نشان جیسا تھا موم کے اک مکان جیسا بڑا سنبھل کر چھوا تھا میں نے پہ ایک پل میں بکھر ...

مزید پڑھیے

یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں

یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں ہمارے روز و شب سارے کے سارے ایک جیسے ہیں ہمیں ہر آنے والا زخم تازہ دے کے جاتا ہے ہمارے چاند سورج اور ستارے ایک جیسے ہیں خدایا تیرے دم سے اپنا گھر اب تک سلامت ہے وگرنہ دوست اور دشمن ہمارے ایک جیسے ہیں کہیں گر فرق نکلے گا تو بس شدت کا کچھ ...

مزید پڑھیے

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا پھر اس کے بعد کئی لوگ مل کے بچھڑے ہیں کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا تمام عمر گزر جاتی ہے کبھی پل میں کبھی تو ایک ہی لمحہ بسر نہیں ہوتا یہ اور بات ...

مزید پڑھیے

زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی

زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی بات جو سوچی وہ کہنے تک پرانی ہو گئی عام سی اک بات تھی اپنی محبت بھی مگر یہ بھی جب لوگوں تلک پہنچی کہانی ہو گئی خوف کی پرچھائیاں ہیں ہر در و دیوار پر اپنے گھر پر جانے کس کی حکمرانی ہو گئی زندگی کے بعد اخترؔ زندگی اک اور ہے موت بھی جیسے فقط نقل ...

مزید پڑھیے

محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے

محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے ہمارے جینے کی بس اک یہی اساس بھی ہے کبھی تو قرب سے بھی فاصلے نہیں مٹتے گو ایک عمر سے وہ شخص میرے پاس بھی ہے کسی کے آنے کا موسم کسی کے جانے کا یہ دل کہ خوش بھی ہے لیکن بہت اداس بھی ہے بدن کے شہر میں آباد اک درندہ ہے اگرچہ دیکھنے میں کتنا خوش ...

مزید پڑھیے

پہلے ہم عشق کیا کرتے تھے

پہلے ہم عشق کیا کرتے تھے ہاں کبھی ہم بھی جیا کرتے تھے اپنے دامن کی کبھی فکر نہ کی چاک اوروں کے سیا کرتے تھے پہلے ہر حال میں خوش رہتے تھے جانے کیا کام کیا کرتے تھے چاہنے والے بہت تھے لیکن ہم بس اک نام لیا کرتے تھے کبھی آنسو تو کبھی مے اخترؔ جو میسر تھا پیا کرتے تھے

مزید پڑھیے

یہ دل کہتا ہے کوئی آ رہا ہے

یہ دل کہتا ہے کوئی آ رہا ہے نظر کہتی ہے وہ بہلا رہا ہے ہر اک کے دل پہ کرتا ہے حکومت وہ اپنی سلطنت پھیلا رہا ہے کسی کی دسترس میں ہے مگر وہ کبھی آ کر ہمیں ملتا رہا ہے کبھی دیتا ہے دل کو زخم گہرے کبھی لگتا ہے وہ سہلا رہا ہے خبر اک اس کے آنے کی سنی تھی دیا گھر رات بھر جلتا رہا ہے کہیں ...

مزید پڑھیے

تم نے دیوانہ کیا اچھا ہوا

تم نے دیوانہ کیا اچھا ہوا ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا اب تو دیوانوں کے دل کی ہو گئی موسم گل میں چمن صحرا ہوا جو بھی آیا حسن پنہاں دیکھ کر کوئی اندھا تو کوئی بہرا ہوا دیکھ لو اس میں مری تصویر ہے اشک غم پلکوں پہ ہے ٹھہرا ہوا فتح کیسے پائیں گے کفار پر قوم کا شیرازہ ہے بکھرا ہوا تھا ...

مزید پڑھیے

دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا

دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا کیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کا عشق کی لطافت کو خاک طور کیا جانے مجھ پہ تھی نظر ان کی مجھ سے تھا خطاب ان کا عالم تمنا ہے خواب کا سا اک عالم شوق نا تمام اپنا عشوہ کامیاب ان کا کم نہ تھی قیامت سے صبح آفرینش بھی میری مضطرب نظریں اور انتخاب ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4302 سے 4657