شاعری

اپنا سایہ بھی نہ ہمراہ سفر میں رکھنا

اپنا سایہ بھی نہ ہمراہ سفر میں رکھنا پختہ سڑکیں ہی فقط راہ گزر میں رکھنا غیر محفوظ سمجھ کر نہ غنیم آ جائے دوستو! میں نہ سہی خود کو نظر میں رکھنا کہیں ایسا نہ ہو میں حد خبر سے گزروں کوئی عالم ہو مجھے اپنی خبر میں رکھنا آئنہ ٹوٹ کے بکھرے تو کئی عکس ملے اب ہتھوڑا ہی کف آئنہ گر میں ...

مزید پڑھیے

پہلے تو سوچ کے دوزخ میں جلاتا ہے مجھے

پہلے تو سوچ کے دوزخ میں جلاتا ہے مجھے پھر وہ شیشے میں مرا چہرہ دکھاتا ہے مجھے شاید اپنا ہی تعاقب ہے مجھے صدیوں سے شاید اپنا ہی تصور لئے جاتا ہے مجھے باہر آوازوں کا اک میلہ لگا ہے دیکھو کوئی اندر سے مگر توڑتا جاتا ہے مجھے یہی لمحہ ہے کہ میں گر کے شکستہ ہو جاؤں صورت شیشہ وہ ...

مزید پڑھیے

گئے زمانے کی صورت بدن چرائے وہ

گئے زمانے کی صورت بدن چرائے وہ نئی رتوں کی طرح سے بھی مسکرائے وہ ہزار میری نفی بھی کرے وہ میرا ہے کہ میرے ہونے کا احساس بھی دلائے وہ ہر ایک شخص یہاں اپنے دل کا مالک ہے میں لاکھ اس کو بلاؤں مگر نہ آئے وہ ہوا کی آہٹیں سنتا ہوں دھڑکنوں کی طرح مثال شمع مجھے رات بھر جگائے وہ مرے بدن ...

مزید پڑھیے

آندھی میں چراغ جل رہے ہیں

آندھی میں چراغ جل رہے ہیں کیا لوگ ہوا میں پل رہے ہیں اے جلتی رتو گواہ رہنا ہم ننگے پاؤں چل رہے ہیں کہساروں پہ برف جب سے پگھلی دریا تیور بدل رہے ہیں مٹی میں ابھی نمی بہت ہے پیمانے ہنوز ڈھل رہے ہیں کہہ دے کوئی جا کے طائروں سے چیونٹی کے بھی پر نکل رہے ہیں کچھ اب کے ہے دھوپ میں بھی ...

مزید پڑھیے

شام تنہائی دھواں اٹھتا برابر دیکھتے

شام تنہائی دھواں اٹھتا برابر دیکھتے پھر سر شب چاند ابھرنے کا بھی منظر دیکھتے جنبش لب میں مری آواز کی تصویر ہے کاش وہ بھی بولتے لفظوں کے پیکر دیکھتے ساحلوں پر سیپیاں تھیں اور ہوا کا شور تھا پانیوں میں ڈوبتے تو کوئی گوہر دیکھتے کھڑکیوں کی اوٹ سے اندازہ ہو سکتا نہیں شہر کا ...

مزید پڑھیے

جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت

جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت وہ میرا کچھ بھی نہ تھا پھر بھی آشنا تھا بہت میں اب بھی رات گئے اس کی گونج سنتا ہوں وہ حرف کم تھا بہت کم مگر صدا تھا بہت زمیں کے سینے میں سورج کہاں سے اترے ہیں فلک پہ دور کوئی بیٹھا سوچتا تھا بہت مجھے جو دیکھا تو کاغذ کو پرزے پرزے کیا وہ اپنی ...

مزید پڑھیے

کسے خبر جب میں شہر جاں سے گزر رہا تھا

کسے خبر جب میں شہر جاں سے گزر رہا تھا زمیں تھی پہلو میں سورج اک کوس پر رہا تھا ہوا میں خوشبوئیں میری پہچان بن گئی تھیں میں اپنی مٹی سے پھول بن کر ابھر رہا تھا عجیب سرگوشیوں کا عالم تھا انجمن میں میں سن رہا تھا زمانہ تنقید کر رہا تھا وہ کیسی چھت تھی جو مجھ کو آواز دے رہی تھی وہ ...

مزید پڑھیے

دل میں اک جذبۂ بیداد و جفا ہی ہوگا

دل میں اک جذبۂ بیداد و جفا ہی ہوگا وہ خدا وند بھی ہوگا تو خدا ہی ہوگا گرد سی اڑتی نظر آتی ہے آندھی ہوگی دور تک نقش قدم ہیں کوئی راہی ہوگا ہم سے جو پوچھنا ہے پوچھ لو ورنہ کل تک کس کو اندازۂ نا کردہ گناہی ہوگا کہیں گرتی ہوئی دیواریں کہیں جھکتی چھتیں آپ کہتے ہیں تو یہ قصر وفا ہی ...

مزید پڑھیے

کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ میں کس نگر کا تھا

کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ میں کس نگر کا تھا جلتا ہوا چراغ مری رہگزر کا تھا ہم جب سفر پہ نکلے تھے تاروں کی چھاؤں تھی پھر اپنے ہم رکاب اجالا سحر کا تھا ساحل کی گیلی ریت نے بخشا تھا پیرہن جیسے سمندروں کا سفر چشم تر کا تھا چہرے پہ اڑتی گرد تھی بالوں میں راکھ تھی شاید وہ ہم سفر مرے اجڑے ...

مزید پڑھیے

دشت در دشت عکس در ہے یہاں

دشت در دشت عکس در ہے یہاں تم بھی آؤ کہ میرا گھر ہے یہاں پھیلتی جا رہی ہے سرخ لکیر جیسے کوئی لہو میں تر ہے یہاں دھوپ سے بچ کے جائیں اور کہاں اپنی ذات اک گھنا شجر ہے یہاں وہی مٹی ہے سب کے چہروں پر آئنہ سب سے با خبر ہے یہاں شاخ در شاخ ایک سایہ ہے چاند جو ہے پس شجر ہے یہاں ڈوب کر جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4277 سے 4657