اپنا سایہ بھی نہ ہمراہ سفر میں رکھنا
اپنا سایہ بھی نہ ہمراہ سفر میں رکھنا پختہ سڑکیں ہی فقط راہ گزر میں رکھنا غیر محفوظ سمجھ کر نہ غنیم آ جائے دوستو! میں نہ سہی خود کو نظر میں رکھنا کہیں ایسا نہ ہو میں حد خبر سے گزروں کوئی عالم ہو مجھے اپنی خبر میں رکھنا آئنہ ٹوٹ کے بکھرے تو کئی عکس ملے اب ہتھوڑا ہی کف آئنہ گر میں ...