شاعری

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار وہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے رو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیں مر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے اخترؔ دیار حسن میں پہنچے ہیں مر کے ہم کیوں کر ہوا ہے طے یہ ...

مزید پڑھیے

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی لالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی کوچۂ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب اپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی ان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصور ناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی چشم محزوں پہ نہ لہرائی وہ زلف شاداب یہ پری ہم سے بھی شیشے ...

مزید پڑھیے

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں ہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیں وہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں شب بہار میں زلفوں سے کھیلنے والے ترے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں چمن میں بلبلیں اور انجمن میں پروانے جہاں میں کون غم عشق سے خراب نہیں غم ...

مزید پڑھیے

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے شراب پینے دے خانہ خراب پینے دے ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے نہ مجھے ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے میں جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ تو اس گناہ کو بے احتساب پینے دے پھر ایسا وقت کہاں ہم کہاں شراب کہاں طلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے مرے دماغ ...

مزید پڑھیے

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی ساری دنیا پر جوانی آ گئی آہ وہ اس کی نگاہ مے فروش جب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی گیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیں ابر میں بجلی سی اک لہرا گئی عالم مستی کی توبہ الاماں پارسائی نشہ بن کر چھا گئی آہ اس کی بے نیازی کی نظر آرزو کیا پھول سی کمھلا گئی ساز دل ...

مزید پڑھیے

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں مری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں ترے دل کو ملنے کی خود آرزو ہو تجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں مجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے جو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں محبت کے اقرار سے شرم کب تک کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں مرے دل میں ہے شعلۂ حسن رقصاں میں چاہوں ...

مزید پڑھیے

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ ...

مزید پڑھیے

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے دو زہر کے پیالوں پہ قضا کھیل رہی ہے ہیں نرگس و گل کس لیے مسحور تماشا گلشن میں کوئی شوخ ادا کھیل رہی ہے اس بزم میں جائیں تو یہ کہتی ہیں ادائیں کیوں آئے ہو، کیا سر پہ قضا کھیل رہی ہے اس چشم سیہ مست پہ گیسو ہیں پریشاں میخانے پہ گھنگھور گھٹا ...

مزید پڑھیے

آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم

آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم ہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسم چاک داماں کی قسم چاک گریباں کی قسم ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم میرے ارمان سے واقف نہیں شرمائیں گے آپ آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم نیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم اپنی آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے چمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتے جناب شیخ پہنچ جاتے حوض کوثر تک اگر شراب سے مے خانے میں وضو کرتے مسرت آہ تو بستی ہے کن ستاروں میں زمیں پہ عمر ہوئی تیری جستجو کرتے ایاغ بادہ میں آ کر وہ خود چھلک پڑتا گر اس کے مست ذرا اور ہاؤ ہو کرتے انہیں مفر نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4262 سے 4657