تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں بہار آئی ہے بلبل درد دل کہتی ہے پھولوں سے کہو تو میں بھی اپنا درد دل تم سے بیاں کر لوں ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں حیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں کوئی صورت تو ہو دنیائے فانی ...