شاعری

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں بہار آئی ہے بلبل درد دل کہتی ہے پھولوں سے کہو تو میں بھی اپنا درد دل تم سے بیاں کر لوں ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں حیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں کوئی صورت تو ہو دنیائے فانی ...

مزید پڑھیے

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ ...

مزید پڑھیے

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں گدائے مے کدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیں مجھے مے خانہ تھراتا ہوا محسوس ہوتا ہے وہ میرے سامنے شرما کے جب پیمانہ رکھتے ہیں گھٹائیں بھی تو بہکی جا رہی ہیں ان اداؤں پر چمن میں جو قدم رکھتے ہیں وہ مستانہ رکھتے ہیں بظاہر ہم ہیں بلبل کی طرح مشہور ...

مزید پڑھیے

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو اپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کرو شرم رونے بھی نہ دے بیکلی سونے بھی نہ دے اس طرح تو مری راتوں کو نہ برباد کرو حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے اس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو یاد آتے ہو بہت دل سے بھلانے والو تم ہمیں یاد کرو تم ہمیں کیوں یاد ...

مزید پڑھیے

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو! تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو! آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول شاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو! ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر تو جان آرزو ہے تو ایمان آرزو! ہونے کو ہے طلوع صباح شب وصال بجھنے کو ہے چراغ شبستان آرزو! اک وہ کہ آرزؤں پہ جیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے

زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے الٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئے ستم ظریفیٔ فطرت یہ کیا معمہ ہے کہ جس کلی کو بھی سونگھوں میں بوئے یار آئے چمن کی ہر کلی آمادۂ تبسم ہے بہار بن کے مری جان نو بہار آئے ہیں تشنہ کام ہم ان بادلوں سے پوچھے کوئی کہاں بہار کی پریوں کے تخت اتار آئے ترے ...

مزید پڑھیے

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے رات دن صورت کو دیکھا کیجئے چاندنی راتوں میں اک اک پھول کو بے خودی کہتی ہے سجدہ کیجئے جو تمنا بر نہ آئے عمر بھر عمر بھر اس کی تمنا کیجئے عشق کی رنگینیوں میں ڈوب کر چاندنی راتوں میں رویا کیجئے پوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال وہ بے خودی تو ہی بتا کیا ...

مزید پڑھیے

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثر جائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں ظلمت بدوش ہے مری دنیائے عاشقی تاروں کی مشعلے نہ چرائیں ...

مزید پڑھیے

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا ان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سو ناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا دشت غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کر اے وطن تیرے گل و ...

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے مگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہے رہائی کی خبر کس نے اڑائی صحن گلشن میں اسیران قفس سے تو صبا کچھ اور کہتی ہے بہت خوش ہے دل ناداں ہوائے کوے جاناں میں مگر ہم سے زمانے کی ہوا کچھ اور کہتی ہے تو میرے دل کی سن آغوش بن کر کہہ رہا ہے کچھ تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4261 سے 4657