شاعری

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے

زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپا لی میں نے جب زمیں ریت کی مانند سرکتی پائی آسماں تھام لیا جان بچا لی میں نے اپنے سورج کی تمازت کا بھرم رکھنے کو نرم چھاؤں میں کڑی دھوپ ملا لی میں نے مرحلہ کوئی جدائی کا جو درپیش ہوا تو تبسم کی ردا غم کو اوڑھا لی میں ...

مزید پڑھیے

میں ان کو کبھی حد سے گزرنے نہیں دوں گا

میں ان کو کبھی حد سے گزرنے نہیں دوں گا اس ترک تعلق کو میں چلنے نہیں دوں گا تم لاکھ اچھالا کرو الفاظ کے شعلے فردوس محبت کو میں جلنے نہیں دوں گا کرنا ہی پڑے چاہے صبا سے مجھے سازش میں آپ کے گیسو کو سنورنے نہیں دوں گا مایوس نگاہوں سے تم آئینہ نہ دیکھو میں اپنی نگاہوں کو بدلنے نہیں ...

مزید پڑھیے

بادہ خانے کی روایت کو نبھانا چاہئے

بادہ خانے کی روایت کو نبھانا چاہئے جام اگر خالی بھی ہو گردش میں آنا چاہئے آج آنا ہے انہیں لیکن نہ آنا چاہئے وعدۂ فردا اصولاً بھول جانا چاہئے ترک کرنا چاہئے ہرگز نہ رسم انتظار منتظر کو عمر بھر شمعیں جلانا چاہئے جذب کر لیتے ہیں اچھی صورتوں کو آئنہ آئنوں سے کیا تمہیں آنکھیں ...

مزید پڑھیے

جس دن سے اٹھ کے ہم تری محفل سے آئے ہیں

جس دن سے اٹھ کے ہم تری محفل سے آئے ہیں لگتا ہے لاکھوں کوس کی منزل سے آئے ہیں مل کر گلے ہم اپنے ہی قاتل سے آئے ہیں کیا صاف بچ کے موت کی منزل سے آئے ہیں راہیں ہیں عاشقی کی نہایت ہی پر خطر تیرے حضور ہم بڑی مشکل سے آئے ہیں زلفوں کے پیچ و خم میں پڑیں ہم تو کیا پڑیں ہم تنگ خود ہی اپنے ...

مزید پڑھیے

چراغ شام سے آخر جلائیں کس کے لئے

چراغ شام سے آخر جلائیں کس کے لئے کوئی نہ آئے گا آنکھیں بچھائیں کس کے لئے کھنچا کھنچا نظر آتا ہے ہم سے ہر آنچل ستارے توڑ کے لائیں تو لائیں کس کے لئے نہیں ہے کوئی ہمیں زندگی کا شوق مگر ہم اپنی جان سے جائیں تو جائیں کس کے لئے ستم اٹھانے کا مقصد بھی کوئی ہوتا ہے ہم آسمان سے شرطیں ...

مزید پڑھیے

موت آئی ہے زمانے کی تو مر جانے دو

موت آئی ہے زمانے کی تو مر جانے دو کم سے کم اس کی جوانی تو گزر جانے دو جاگ اٹھیں گے ہم ابھی ایسی ضرورت کیا ہے دھوپ دیوار سے کچھ اور اتر جانے دو مدتیں ہو گئیں اک بات مرے ذہن میں ہے سوچتا ہوں تمہیں بتلاؤں مگر جانے دو گردش وقت کا کتنا ہے کشادہ آنگن اب تو مجھ کو اسی آنگن میں بکھر جانے ...

مزید پڑھیے

ہمیں پتا بھی نہیں کس کی وہ کہانی تھی

ہمیں پتا بھی نہیں کس کی وہ کہانی تھی وہ اس قدر تھی نئی کہ بہت پرانی تھی کبھی جو دیکھ لیا اس کو دیکھتے ہی رہے وہ اپنے آپ میں ٹھہری ہوئی روانی تھی تمہاری یاد کا رکھا ہے کینوس ورنہ ہمارے خواب نے صورت نئی بنانی تھی تمہارے پاس تو قصے کہانیاں ہیں بہت کبھی جو ہم نے کہی بھی نہیں سنانی ...

مزید پڑھیے

زمیں سے آسماں تک کا سفر ہے

زمیں سے آسماں تک کا سفر ہے یقیں جیسا گماں تک کا سفر ہے ہمیں تو رات دن چلنا ہے لیکن خدا جانے کہاں تک کا سفر ہے مرے اس کے تعلق کی کہانی جنوں کے درمیاں تک کا سفر ہے ترے انکار کا سارا خلاصہ تری ہلکی سی ہاں تک کا سفر ہے کتاب عشق کی ہر داستاں میں ہر اک قصہ زیاں تک کا سفر ہے

مزید پڑھیے

گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے

گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے ڈوبے گا اگر یہ سورج بھی تو چاند ستارے نکلیں گے انداز زمانہ کہتا ہے پھر موج ہوا رخ بدلے گی انگاروں سے گلشن پھوٹے گا شبنم سے شرارے نکلیں گے فردوس نظر کے دیوانے تاریک فضا سے کیا ڈرنا تو شمع نظر کو تیز تو کر ظلمت سے نظارے نکلیں ...

مزید پڑھیے

اک جنوں کہیے اسے جو مرے سر سے نکلا

اک جنوں کہیے اسے جو مرے سر سے نکلا ورنہ مطلب نہ کوئی عرض ہنر سے نکلا کوئی منزل نہ ملی پانو جو گھر سے نکلا پھر سفر پیش تھا جب گرد سفر سے نکلا بچ کے ہر چند زمانے کی نظر سے نکلا سامنے کوئے ملامت تھا جدھر سے نکلا میں بہت دور کہیں چھوڑ چکا تھا اس کو قافلہ پھر مری حسرت کا کدھر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4238 سے 4657