شاعری

نیند آ گئی تھی منزل عرفاں سے گزر کے

نیند آ گئی تھی منزل عرفاں سے گزر کے چونکے ہیں ہم اب سرحد عصیاں سے گزر کے آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے یادوں کے جواں قافلے آتے ہی رہیں گے سرما کے اسی برگ پرافشاں سے گزر کے کانٹوں کو بھی اب باد صبا چھیڑ رہی ہے پھولوں کے حسیں چاک گریباں سے گزر ...

مزید پڑھیے

گلوں کی چاہ میں توہین برگ و بار نہ کر

گلوں کی چاہ میں توہین برگ و بار نہ کر بھرے چمن میں یہ سامان انتشار نہ کر خزاں ریاض چمن ہے خزاں گداز چمن خزاں کا ڈر ہو تو پھر خواہش بہار نہ کر بس ایک دل ہے یہاں واقف نشیب و فراز وفا کی راہ میں رہبر کا انتظار نہ کر ہجوم غم میں تبسم کا کھیل دیکھ لیا میں کہہ رہا تھا مرے غم کا اعتبار ...

مزید پڑھیے

منزل دل ملی کہاں ختم سفر کے بعد بھی

منزل دل ملی کہاں ختم سفر کے بعد بھی رہ گزر ایک اور تھی راہ گزر کے بعد بھی آج ترے سوال پر پھر مرے لب خموش ہیں ایسی ہی کشمکش تھی کچھ پہلی نظر کے بعد بھی دل میں تھے لاکھ وسوسے جلوۂ آفتاب تک رہ گئی تھی جو تیرگی نور سحر کے بعد بھی ناصح مصلحت نواز تجھ کو بتاؤں کیا یہ راز حوصلۂ نگاہ ہے ...

مزید پڑھیے

تیرے ہلکے سے تبسم کا اشارا بھی تو ہو

تیرے ہلکے سے تبسم کا اشارا بھی تو ہو تا سر دار پہنچنے کا سہارا بھی تو ہو شکوہ و طنز سے بھی کام نکل جاتے ہیں غیرت عشق کو لیکن یہ گوارا بھی تو ہو مے کشوں میں نہ سہی تشنہ لبوں میں ہی سہی کوئی گوشہ تری محفل میں ہمارا بھی تو ہو کس طرف موڑ دیں ٹوٹی ہوئی کشتی اپنی ایسے طوفاں میں کہیں ...

مزید پڑھیے

دل مضطر مجھے اک بات بتا سکتا ہے

دل مضطر مجھے اک بات بتا سکتا ہے تو کسی طور مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے یہ تری بھول ہے میں تیرے سبب زندہ ہوں مجھ سا ضدی تو بدن توڑ کے جا سکتا ہے جس نے اس خاک کے انسان کو عزت دی ہے وہی اس خاک کو مٹی میں ملا سکتا ہے تو مرے ساتھ تو ہے پھر بھی مرے ساتھ نہیں اس سے بڑھ کر بھی مجھے کوئی ستا ...

مزید پڑھیے

جو نفرتوں کا جمال ٹھہرا

جو نفرتوں کا جمال ٹھہرا محبتوں کا زوال ٹھہرا نہ آنکھ روئی نہ دل پسیجا تمہارا جانا کمال ٹھہرا تمہاری یادیں جہاں بھی ٹھہریں وہیں پہ دل میں ملال ٹھہرا جواب کیونکر دلیل کس کو ہمارے لب پہ سوال ٹھہرا جو ہم نے سوچا تھا عشق ہوگا فقط ہمارا خیال ٹھہرا وہ سن کے چپ ہیں کہانی اپنی یہ ...

مزید پڑھیے

قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا

قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا بھید کھلتا کیوں نہیں اے دل ترے آرام کا فاختائیں بولتی ہیں بجروں کے دیس میں تو بھی سن لے آسماں یہ گیت میرے نام کا ٹھنڈے پانی کے گگن میں ساتویں کا چاند ہے یا گرا ہے برف میں کنگرا تمہارے بام کا کوکتا پھرتا ہے کوئی دھوپ کی گلیوں میں شخص سن لیا ہے ...

مزید پڑھیے

امن قریوں کی شفق فام سنہری چڑیاں

امن قریوں کی شفق فام سنہری چڑیاں میرے کھیتوں میں اڑیں شام سنہری چڑیاں ناریاں دل کے مضافات میں اتریں آ کر ہو بہو جیسے سر بام سنہری چڑیاں میرے اسلوب میں کہتی ہیں فسانے گل کے چہلیں کرتی ہیں مرے نام سنہری چڑیاں کچی عمروں کے شریروں کو سلامی میری جن کے اطراف بنیں دام سنہری ...

مزید پڑھیے

ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا

ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا مجھے خبر نہ ہو سکی پہ ساتھ ساتھ میں بھی تھا چمکتے نور کے دنوں میں تیرے آستاں سے دور وہ میں کہ آفتاب کی سفید شاخ پر کھلا حجاب آ گیا تھا مجھ کو دل کے اضطراب پر یہی سبب ہے تیرے در پہ لوٹ کر نہ آ سکا وہ کس مکاں کی دھوپ تھی، گلی گلی میں بھر گئی وہ کون ...

مزید پڑھیے

زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا

زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا دھند میں الجھا رہا نیند میں چلنے والا دھوپ کے شہر مری جاں سے لپٹ کر روئے سرد شاموں کی طرف میں تھا نکلنے والا کر گیا آپ کی دیوار کے سائے پہ یقیں میں درختوں کے ہرے دیس کا رہنے والا اس کے تالاب کی بطخیں بھی کنول بھی روئے ریت کے ملک میں ہجرت تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4233 سے 4657