شاعری

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے مقتولوں کا قحط پڑ نہ جائے قاتل کی کہیں کمی نہیں ہے ویرانوں سے آ رہی ہے آواز تخلیق جنوں رکی نہیں ہے ہے اور ہی کاروبار مستی جی لینا تو زندگی نہیں ہے ساقی سے جو جام لے نہ بڑھ کر وہ تشنگی تشنگی نہیں ہے عاشق کشی و فریب کاری یہ شیوۂ ...

مزید پڑھیے

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہے (ردیف .. ی)

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہے مگر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم کس کس کے لہو کی لالہ کاری ہے زمین کوئے جاناں آج پہچانی نہیں جاتی اگر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقیں محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہو گیا ...

مزید پڑھیے

میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤ

میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤ میری نظروں سے گزر کر دل و جاں تک آؤ پھر یہ دیکھو کہ زمانے کی ہوا ہے کیسی ساتھ میرے مرے فردوس جواں تک آؤ حوصلہ ہو تو اڑو میرے تصور کی طرح میری تخئیل کے گلزار جناں تک آؤ تیغ کی طرح چلو چھوڑ کے آغوش نیام تیر کی طرح سے آغوش کماں تک آؤ پھول کے گرد ...

مزید پڑھیے

وطن سے دور یاران وطن کی یاد آتی ہے

وطن سے دور یاران وطن کی یاد آتی ہے قفس میں ہم نوایان چمن کی یاد آتی ہے یہ کیسا ظلم ہے پھر سایۂ دیوار زنداں میں وطن کے سایۂ سرو و سمن کی یاد آتی ہے تصور جس سے رنگیں ہے تخیل جس سے رقصاں ہے غزال ہند و آہوئے ختن کی یاد آتی ہے کبھی لیلیٰ و شیریں گاہ ہیر و سوہنی بن کر نرالے یار کی بانکے ...

مزید پڑھیے

موسم رنگ بھی ہے فصل خزاں بھی طاری

موسم رنگ بھی ہے فصل خزاں بھی طاری دیکھنا خون کے دھبے ہیں کہ ہے گلکاری اس سے ہر طرح سے تذلیل بشر ہوتی ہے باعث فخر نہیں مفلسی و ناداری انقلابی ہو تو ہے فقر بھی توقیر حیات ورنہ ہے عاجزی و بے کسی و عیاری شعلۂ گل کی بڑھا دیتی ہے لو باد بہار تہ شبنم بھی دہک اٹھتی ہے اک چنگاری لمحہ ...

مزید پڑھیے

ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کو

ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کو مرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کو تجھے کس نظر سے دیکھے یہ نگاہ درد آگیں جو دعائیں دے رہی ہے تری چشم بے وفا کو کہیں رہ گئی ہو شاید ترے دل کی دھڑکنوں میں کبھی سن سکے تو سن لے مری خوں شدہ نوا کو کوئی بولتا نہیں ہے میں پکارتا رہا ہوں کبھی بت کدے میں ...

مزید پڑھیے

مستیٔ رندانہ ہم سیرابیٔ مے خانہ ہم

مستیٔ رندانہ ہم سیرابیٔ مے خانہ ہم گردش تقدیر سے ہیں گردش پیمانہ ہم خون دل سے چشم تر تک چشم تر سے تا بہ خاک کر گئے آخر گل و گلزار ہر ویرانہ ہم کیا بلا جبر اسیری ہے کہ آزادی میں بھی دوش پر اپنے لیے پھرتے ہیں زنداں خانہ ہم راہ میں فوجوں کے پہرے سر پہ تلواروں کی چھاؤں آئے ہیں زنداں ...

مزید پڑھیے

وہ مری دوست وہ ہمدرد وہ غم خوار آنکھیں

وہ مری دوست وہ ہمدرد وہ غم خوار آنکھیں ایک معصوم محبت کی گنہ گار آنکھیں شوخ و شاداب و حسیں سادہ و پرکار آنکھیں مست و سرشار و جواں بے خود و ہشیار آنکھیں ترچھی نظروں میں وہ الجھی ہوئی سورج کی کرن اپنے دزدیدہ اشاروں میں گرفتار آنکھیں جنبش ابرو و مژگاں کے خنک سائے میں آتش افروز ...

مزید پڑھیے

شبوں کی زلف کی روئے سحر کی خیر مناؤ

شبوں کی زلف کی روئے سحر کی خیر مناؤ نگار‌ شمس عروس قمر کی خیر مناؤ سپاہ دشمن انسانیت قریب آئی دیار حسن سر رہ گزر کی خیر مناؤ ابھی تو اوروں کے دیوار و در پہ یورش تھی اب اپنے سایۂ دیوار و در کی خیر مناؤ چلی ہے آتش و آہن کے دل سے باد سموم چمن کے جلوۂ گلہائے تر کی خیر مناؤ گزر نہ ...

مزید پڑھیے

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح اجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرح پیمبروں کی طرح سے جیو زمانے میں پیام شوق بنو دولت ہنر کی طرح یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے ہم نفسو ستارہ بن کے جلے بجھ گئے شرر کی طرح ڈرا سکی نہ مجھے تیرگی زمانے کی اندھیری رات سے گزرا ہوں میں قمر کی طرح سمندروں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4226 سے 4657