شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یارو
شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یارو باغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یارو کون ہے خوف زدہ جشن سحر سے پوچھو رات کی نبض تو اب چھوٹ چلی ہے یارو تاک کے دل سے دل شیشہ و پیمانہ تک ایک اک بوند میں سو شمع جلی ہے یارو چوم لینا لب لعلیں کا ہے رندوں کو روا رسم یہ بادۂ گلگوں سے چلی ہے یارو صرف اک ...