صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے
صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے جل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہے خنجروں کی سازش پر کب تلک یہ خاموشی روح کیوں ہے یخ بستہ نغمہ بے زباں کیوں ہے راستہ نہیں چلتے صرف خاک اڑاتے ہیں کارواں سے بھی آگے گرد کارواں کیوں ہے کچھ کمی نہیں لیکن کوئی کچھ تو بتلاؤ عشق اس ستم گر کا ...