شاعری

نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی

نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی فریب کل ہے زمیں اور نمونہ اضداد کہ ابتدا ہی گناہ و ثواب سے ہوئی تھی بس ایک شب کی کہانی نہیں کہ بھول سکیں ہر ایک شب ہی مماثل عتاب سے ہوئی تھی وجود چشم تھا ٹھہرے سمندروں کی مثال نمود حالت دل اک حباب سے ہوئی ...

مزید پڑھیے

ہر برے وقت کے افعال بدل دیتا ہے

ہر برے وقت کے افعال بدل دیتا ہے عشق داناؤں کے اقوال بدل دیتا ہے برگ جاں ہیئت اجزا کا پریشان سا جز دیکھتے دیکھتے اشکال بدل دیتا ہے وقت بیدار مگر ہے تو تغیر کا اسیر جو بدلنا ہو بہ ہر حال بدل دیتا ہے اک ذرا صبر کہ پرواز کا خالق یک دم وقت آنے پہ پر و بال بدل دیتا ہے کوئی مجذوب الہٰ ...

مزید پڑھیے

شہر دل کنج بیابان نہیں تھا پہلے

شہر دل کنج بیابان نہیں تھا پہلے میں کبھی اتنا پریشان نہیں تھا پہلے بائیں پہلو میں جو اک سنگ پڑا ہے ساکت یہ دھڑکتا بھی تھا بے جان نہیں تھا پہلے شہریاروں سے مراسم تھے بہت ہی گہرے تیرہ بختوں سے بھی انجان نہیں تھا پہلے لفظ روٹھے ہوئے رہتے تھے قلم سے اکثر جن سے تجدید کا امکان نہیں ...

مزید پڑھیے

آب میں ذائقۂ شیر نہیں ہو سکتا

آب میں ذائقۂ شیر نہیں ہو سکتا خواب تو خواب ہے تعبیر نہیں ہو سکتا مجھ کو پابند سلاسل کوئی جتنا کر لے پر مرا عزم تو زنجیر نہیں ہو سکتا ہر طرف غل ہے شہنشاہ کی مرضی کے بغیر اب کوئی لفظ بھی تحریر نہیں ہو سکتا رزق جیسا ہے مقدر میں لکھا ہوتا ہے فن کسی شخص کی جاگیر نہیں ہو سکتا ہم نے ...

مزید پڑھیے

اک طرفہ تماشہ سر بازار بنے گا

اک طرفہ تماشہ سر بازار بنے گا جو شخص بھی آئینۂ کردار بنے گا یہ بات بھی طے ہو گئی دہشت زدگاں میں جو سنگ بدست آئے گا سردار بنے گا رنگوں سے نہ رکھیے کسی صورت کی توقع وہ خون کا قطرہ ہے جو شہکار بنے گا میں اس کے پنپنے کی دعا مانگ رہا ہوں بچے کے یہ تیور ہیں کہ فن کار بنے گا پھر لخت ...

مزید پڑھیے

بعد مدت کے کھلا جوہر نایاب مرا

بعد مدت کے کھلا جوہر نایاب مرا جو اندھیرے میں تھا روشن ہوا وہ باب مرا میں زمیں والوں کی آنکھوں میں بھرا ہوں لیکن آسماں والوں نے دیکھا ہے کوئی خواب مرا عطر افشانیٔ قربت سے تھی معمور فضا جذبۂ قطرۂ خوں کب ہوا سیراب مرا کتنے دریاؤں پہ تھا کالی گھٹاؤں کا جلوس ایک اک بوند کا پیاسا ...

مزید پڑھیے

میں جس کا منتظر ہوں وہ منظر پکار لے

میں جس کا منتظر ہوں وہ منظر پکار لے شاید نکل کے جسم سے باہر پکار لے میں لے رہا ہوں جائزہ ہر ایک لہر کا کیا جانے کب یہ مجھ کو سمندر پکار لے صدیوں کے درمیان ہوں میں بھی تو اک صدی اک بار مجھ کو اپنا سمجھ کر پکار لے میں پھر رہا ہوں شہر میں سڑکوں پہ غالباً آواز دے کے مجھ کو مرا گھر ...

مزید پڑھیے

لب کیا کھلے کہ قوت گویائی چھن گئی

لب کیا کھلے کہ قوت گویائی چھن گئی پیش نگاہ وہ تھے کہ بینائی چھن گئی ہونٹوں پہ دہشتوں کی تھی طغیانی ہر طرف سارے گواہ خشک تھے سچائی چھن گئی اوروں کے نام ہی سہی سب صحبتیں تری تیرے بغیر بھی مری تنہائی چھن گئی ظلم و ستم کی تخت نشینی کے دن جو آئے گھر گھر اداس شہر کی رعنائی چھن ...

مزید پڑھیے

خشک آنکھوں سے لہو پھوٹ کے رونا اک دن

خشک آنکھوں سے لہو پھوٹ کے رونا اک دن ورنہ لے ڈوبے گا مجھ کو مرا ہونا اک دن کیا پتہ تھا تری جلتی ہوئی سانسوں کی قطار میری سانسوں ہی پہ ڈالے گی بچھونا اک دن ایک بھی رنگ کی لو اونچی نہ ہونے پائی ان گنت رنگوں میں جس کو تھا سمونا اک دن میں کبھی ذہن کے زینوں سے اتر آؤں گا لا کے رکھ دے ...

مزید پڑھیے

ہر موڑ پہ سفر تھا عجب بولنے نہ پائے

ہر موڑ پہ سفر تھا عجب بولنے نہ پائے منزل ملی جو درد کی لب بولنے نہ پائے لکھوا دئیے ہیں اوروں نے دیوار و در پہ نام اک ہم تھے اپنا نام و نسب بولنے نہ پائے گھر جل رہا تھا سب کے لبوں پر دھواں سا تھا کس کس پہ کیا ہوا تھا غضب بولنے نہ پائے سپنوں کی گرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے لوگ اتری تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4216 سے 4657