نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی
نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی فریب کل ہے زمیں اور نمونہ اضداد کہ ابتدا ہی گناہ و ثواب سے ہوئی تھی بس ایک شب کی کہانی نہیں کہ بھول سکیں ہر ایک شب ہی مماثل عتاب سے ہوئی تھی وجود چشم تھا ٹھہرے سمندروں کی مثال نمود حالت دل اک حباب سے ہوئی ...