شاعری

جو بھی سوکھے گل کتابوں میں ملے اچھے لگے

جو بھی سوکھے گل کتابوں میں ملے اچھے لگے ہوں وہ لمحہ یا بشر چھوٹے ہوئے اچھے لگے برگ و گل پہ تو ہمیں شبنم بڑی اچھی لگی اشک لیکن کب ترے رخسار پہ اچھے لگے دل کشی تھی انسیت تھی یا محبت یا جنون سب مراحل تجھ سے جو منسوب تھے اچھے لگے کاغذی کشتی کا رشتہ خوب ہے آلوکؔ سے جھوٹھے جتنے بھی ...

مزید پڑھیے

بعض خط پر اثر بھی ہوتے ہیں

بعض خط پر اثر بھی ہوتے ہیں نامہ بر چارہ گر بھی ہوتے ہیں حسن کی دل کشی پہ ناز نہ کر آئنے بد نظر بھی ہوتے ہیں تم ہوئے ہم سفر تو یہ جانا راستے مختصر بھی ہوتے ہیں جان دینے میں سر بلندی ہے پیار کا مول سر بھی ہوتے ہیں اک ہمیں منتظر نہیں آلوکؔ منتظر بام و در بھی ہوتے ہیں

مزید پڑھیے

مری قربتوں کی خاطر یوں ہی بے قرار ہوتا

مری قربتوں کی خاطر یوں ہی بے قرار ہوتا جو مری طرح اسے بھی کہیں مجھ سے پیار ہوتا نہ وہ اس طرح بدلتے نہ نگاہ پھیر لیتے جو نہ بے بسی کا میری انہیں اعتبار ہوتا وہ کچھ ایسے ڈھلتا مجھ میں کہ غم اس کے میرے ہوتے وہ جو سوگوار ہوتا تو میں اشک بار ہوتا مجھے چین لینے دیتی کہاں انقلابی ...

مزید پڑھیے

یہ راستے یہ نظارے بہار کا عالم

یہ راستے یہ نظارے بہار کا عالم ترے بغیر دل بے قرار کا عالم دھڑک اٹھے ہے ترا ذکر بھی اگر آئے یہ مرے دل پہ ترے اختیار کا عالم تجھے خیال بھی آئے نہ دور جانے کا جو دیکھ لے تو مرے انتظار کا عالم حسد نہ ہو جو رقیبوں کے ساتھ بھی دیکھوں تری وفا پہ مرے اعتبار کا عالم کبھی تو آئے رلانے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک ذہن میں سارا حساب رہتا ہے

ہر ایک ذہن میں سارا حساب رہتا ہے سوال سننے سے پہلے جواب رہتا ہے وہ ایک موڑ جہاں ایک دن لٹا تھا میں وہیں مرا دل خانہ خراب رہتا ہے ہوا کے دم پہ ہے جب زندگی کا دار و مدار تو کیوں غرور تجھے اے حباب رہتا ہے چلے گی چال کوئی گردش فلک شاید کئی دنوں سے بڑا اضطراب رہتا ہے وہ جھولی کیسے ...

مزید پڑھیے

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہ محبت وہ نگہ کا تازیانہ یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں نہ ادائے کافرانہ نہ تراش آزرانہ نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم کی کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے ...

مزید پڑھیے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ترے ...

مزید پڑھیے

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے اسی خطا ...

مزید پڑھیے

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ ...

مزید پڑھیے

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقشہ بند میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود گاہ الجھ کے رہ گئی میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4206 سے 4657