ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق نہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہو کان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق جتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میں کچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجی تیرے در سے نہ سرکنا ...