شاعری

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق نہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہو کان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق جتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میں کچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجی تیرے در سے نہ سرکنا ...

مزید پڑھیے

کوئی دیوار نہ در باقی ہے

کوئی دیوار نہ در باقی ہے دشت خوں حد نظر باقی ہے سب مراحل سے گزر آیا ہوں اک تری راہ گزر باقی ہے صبح روشن ہے چھتوں کے اوپر رات پلکوں پہ مگر باقی ہے خواہشیں قتل ہوئی جاتی ہیں اک مرا دیدۂ تر باقی ہے کون دیتا ہے صدائیں مجھ کو کس کے ہونٹوں کا اثر باقی ہے کٹ گئی شاخ تمنا عنبرؔ نا ...

مزید پڑھیے

رنگ کالا ہے نہ ہے پیکر سیاہ

رنگ کالا ہے نہ ہے پیکر سیاہ آدمی دراصل ہے اندر سیاہ اب کہاں قوس قزح کے دائرے اب ہے تا حد نظر منظر سیاہ کتنا کالا ہو گیا تھا اس کا دل جسم سے نکلا تو تھا خنجر سیاہ وقت نے سنولا دیا سارا بدن دھیرے دھیرے ہو گیا مرمر سیاہ دھوپ کافی دور تک تھی راہ میں لمحہ لمحہ ہو گیا پیکر سیاہ

مزید پڑھیے

سائباں کیا ابر کا ٹکڑا ہے کیا

سائباں کیا ابر کا ٹکڑا ہے کیا دھوپ تو معلوم ہے سایا ہے کیا اپنے دامن میں چھپا لے موج غم قطرہ قطرہ زندگی جینا ہے کیا خواب آنسو احتجاجی زندگی پوچھیے مت شہر کلکتہ ہے کیا تند جھونکے سب اڑا لے جائیں گے شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا ہے کیا ہر قدم اک سانحہ ہے دوستو ایسے موسم میں کوئی جیتا ہے ...

مزید پڑھیے

ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا

ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا لام کا خوب الف مد مقابل ٹھہرا دیدۂ تر سے جو دامن میں گرا دل ٹھہرا بہتے بہتے یہ سفینہ لب ساحل ٹھہرا کی نظر روئے کتابی پہ تو کچھ دل ٹھہرا مکتب شوق بھی قرآن کی منزل ٹھہرا نگہت گل سے پریشان ہوا اس کا دماغ خندۂ گل نہ ہوا شور عنادل ٹھہرا نجد سے قیس جو آیا ...

مزید پڑھیے

کس کے چمکے چاند سے رخسار قیصر باغ میں

کس کے چمکے چاند سے رخسار قیصر باغ میں چاندنی ہے سایۂ دیوار قیصر باغ میں فی الحقیقت یہ بھی کم گلزار جنت سے نہیں حوریں پھرتی ہیں سر بازار قیصر باغ میں پاؤں کا یاں ذکر کیسا صاف ہے ایسی زمیں دل پھسلتے ہیں دم رفتار قیصر باغ میں زیر شاخ گل اگر سبزہ کبھی سونے لگا شور بلبل نے کیا بیدار ...

مزید پڑھیے

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات کیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کم ہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات زاہد اس زلف پھنس جائے تو اتنا پوچھوں کہیے کس طرح کٹی قبلۂ حاجات کی رات شام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیش خوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات ...

مزید پڑھیے

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا شکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھا لکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی اسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر رکھا مٹائے دیدہ و دل دونوں میرے اشک خونیں نے عجب یہ ...

مزید پڑھیے

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے ...

مزید پڑھیے

پلا ساقیا ارغوانی شراب

پلا ساقیا ارغوانی شراب کہ پیری میں دے نوجوانی شراب وہ شعلہ ہے ساقی کہ رنجک کی طرح اڑا دیتی ہے ناتوانی شراب کہاں بادۂ عیش تقدیر میں پیوں میں تو ہو جائے پانی شراب نہ لایا ہے شیشہ نہ جام و سبو پلاتا ہے ساقی زبانی شراب کہاں عقل برنا کہاں عقل پیر نئے سے ہے بہتر پرانی شراب مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4171 سے 4657