شاعری

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے نکل اے صبر اس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہے نظر میں تیری آنکھیں سر میں سودا تیری زلفوں کا کئی پریوں کے سائے میں ترا دیوانہ آتا ہے وفور رحمت باری ہے مے خواروں پہ ان روزوں جدھر سے ابر اٹھتا ہے سوئے مے خانہ آتا ہے لگی دل کی بجھائے بیکسی میں کون ہے ...

مزید پڑھیے

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں تڑپ کے روح یہ کہتی ہے ہجر جاناں میں کہ تیرے ساتھ دل بے قرار ہم بھی ہیں رہے دماغ اگر آسماں پہ دور نہیں کہ تیرے کوچہ میں مست غبار ہم بھی ہیں کہو کہ نخل چمن ہم سے سرکشی نہ کریں انہیں کی طرح سے باغ و بہار ہم بھی ...

مزید پڑھیے

دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ

دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ غم سے بے اختیار سا ہے کچھ رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں جامۂ مستعار سا ہے کچھ چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ نخل امید میں نہ پھول نہ پھل شجر بے بہار سا ہے کچھ ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں آسماں پر غبار سا ہے کچھ کل تو آفت تھی دل کی ...

مزید پڑھیے

ہم جو مست شراب ہوتے ہیں

ہم جو مست شراب ہوتے ہیں ذرے سے آفتاب ہوتے ہیں ہے خرابات صحبت واعظ لوگ ناحق خراب ہوتے ہیں کیا کہیں کیسے روز و شب ہم سے عمل ناثواب ہوتے ہیں بادشہ ہیں گدا، گدا سلطان کچھ نئے انقلاب ہوتے ہیں ہم جو کرتے ہیں مے کدے میں دعا اہل مسجد کو خواب ہوتے ہیں وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر شعر جو ...

مزید پڑھیے

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا بیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیا ٹھہریں کبھی کجوں میں نہ دم بھر بھی راست رو آیا کماں میں تیر تو سن سے نکل گیا خلعت پہن کے آنے کی تھی گھر میں آرزو یہ حوصلہ بھی گور و کفن سے نکل گیا پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش مدت ہوئی غریب وطن سے نکل ...

مزید پڑھیے

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے زمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے مکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ ...

مزید پڑھیے

نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا

نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا مزا میں کیا کہوں آغاز آشنائی کا کہاں نہیں ہے تماشا تری خدائی کا مگر جو دیکھنے دے رعب کبریائی کا وہ ناتواں ہوں اگر نبض کو ہوئی جنبش تو صاف جوڑ جدا ہو گیا کلائی کا شب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا یہ جوش حسن سے تنگ ...

مزید پڑھیے

صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا

صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا بات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہنا رو کے اس شوخ سے قاصد مرا رونا کہنا ہنس پڑے اس پہ تو پھر حرف تمنا کہنا مثل مکتوب نہ کہنے میں ہے کیا کیا کہنا نہ مری طرز خموشی نہ کسی کا کہنا اور تھوڑی سی شب وصل بڑھا دے یارب صبح نزدیک ہمیں ان سے ہے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں اک جان ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں مہمان ادھر ہما ہے ادھر ہے سگ حبیب اک مشت استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقد جاں مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب حیران باغباں ہے کسے دوں ...

مزید پڑھیے

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے تیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاں سیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے چھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کو اپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے روز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلف بیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے کیا کہیں گے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4170 سے 4657