صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیں
صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیں دھوپ آنکھوں تک آ جائے تو خواب بکھرنے لگتے ہیں انسانوں کے روپ میں جس دم سائے بھٹکیں سڑکوں پر خوابوں سے دل چہروں سے آئینے ڈرنے لگتے ہیں کیا ہو جاتا ہے ان ہنستے جیتے جاگتے لوگوں کو بیٹھے بیٹھے کیوں یہ خود سے باتیں کرنے لگتے ہیں عشق کی ...