شاعری

صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیں

صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیں دھوپ آنکھوں تک آ جائے تو خواب بکھرنے لگتے ہیں انسانوں کے روپ میں جس دم سائے بھٹکیں سڑکوں پر خوابوں سے دل چہروں سے آئینے ڈرنے لگتے ہیں کیا ہو جاتا ہے ان ہنستے جیتے جاگتے لوگوں کو بیٹھے بیٹھے کیوں یہ خود سے باتیں کرنے لگتے ہیں عشق کی ...

مزید پڑھیے

کان لگا کر سنتی راتیں باتیں کرتے دن

کان لگا کر سنتی راتیں باتیں کرتے دن کہاں گئیں وہ اچھی راتیں باتیں کرتے دن ایک ہی منظر شہر پہ اپنے کب سے ٹھہرا ہے کچھ سوئی کچھ جاگی راتیں باتیں کرتے دن دیوانوں کے خواب کی صورت ان مل اور بے جوڑ اپنے آپ سے لڑتی راتیں باتیں کرتے دن جانے کب یہ میل کریں گے ایک دوجے کے ساتھ خاموشی میں ...

مزید پڑھیے

حضور یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

حضور یار میں حرف التجا کے رکھے تھے چراغ سامنے جیسے ہوا کے رکھے تھے بس ایک اشک ندامت نے صاف کر ڈالے وہ سب حساب جو ہم نے اٹھا کے رکھے تھے سموم وقت نے لہجے کو زخم زخم کیا وگرنہ ہم نے قرینے صبا کے رکھے تھے بکھر رہے تھے سو ہم نے اٹھا لیے خود ہی گلاب جو تری خاطر سجا کے رکھے تھے ہوا کے ...

مزید پڑھیے

جو دن تھا ایک مصیبت تو رات بھاری تھی

جو دن تھا ایک مصیبت تو رات بھاری تھی گزارنی تھی مگر زندگی، گزاری تھی سواد شوق میں ایسے بھی کچھ مقام آئے نہ مجھ کو اپنی خبر تھی نہ کچھ تمہاری تھی لرزتے ہاتھوں سے دیوار لپٹی جاتی تھی نہ پوچھ کس طرح تصویر وہ اتاری تھی جو پیار ہم نے کیا تھا وہ کاروبار نہ تھا نہ تم نے جیتی یہ بازی نہ ...

مزید پڑھیے

یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے

یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے زندگی کا ہی نہیں ٹھور ٹھکانہ معلوم موت تو طے ہے کہ کس وقت کہاں آنی ہے کوئی کرتا ہی نہیں ذکر وفاداری کا ان دنوں عشق میں آسانی ہی آسانی ہے کب یہ سوچا تھا کبھی دوست کہ یوں بھی ہوگا تیری صورت تری آواز سے پہچانی ...

مزید پڑھیے

جب بھی اس شخص کو دیکھا جائے

جب بھی اس شخص کو دیکھا جائے کچھ کہا جائے نہ سوچا جائے دیدۂ کور ہے قریہ قریہ آئنہ کس کو دکھایا جائے دامن عہد وفا کیا تھا میں دل ہی ہاتھوں سے جو نکلا جائے درد مندوں سے تغافل کب تک اس کو احساس دلایا جائے کیا وہ اتنا ہی حسیں لگتا ہے اس کو نزدیک سے دیکھا جائے وہ کبھی سر ہے کبھی رنگ ...

مزید پڑھیے

تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی

تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی یہ زندگی ہے یہاں اس طرح ہی ہوتا ہے سبھی نے بوجھ سے لادے ہیں کچھ اتارے بھی سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی کسی کا اپنا محبت میں کچھ نہیں ہوتا کہ مشترک ہیں یہاں سود بھی ...

مزید پڑھیے

ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو

ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت ہم کو روشنی کا یہ مسافر ہے رہ جاں کا نہیں اپنے سائے سے بھی ہونے لگی وحشت ہم کو آنکھ اب کس سے تحیر کا تماشا مانگے اپنے ہونے پہ بھی ہوتی نہیں حیرت ہم کو اب کے امید کے شعلے سے بھی آنکھیں نہ جلیں جانے کس موڑ پہ لے آئی ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے

کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے پھر اس کے بعد ہمیں آئنوں سے ڈرنا ہے فلک کی بند گلی کے فقیر ہیں تارے! کہ گھوم پھر کے یہیں سے انہیں گزرنا ہے جو زندگی تھی مری جان! تیرے ساتھ گئی بس اب تو عمر کے نقشے میں وقت بھرنا ہے جو تم چلو تو ابھی دو قدم میں کٹ جائے جو فاصلہ مجھے صدیوں میں پار ...

مزید پڑھیے

شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں

شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں آہٹ آہٹ دستک دستک کیا کیا ہم گھبراتے ہیں اہل جنوں تو دل کی صدا پر جان سے اپنی جا بھی چکے اہل خرد اب جانے ہم کو کیا سمجھانے آتے ہیں جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں جس کی ہر اک اینٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4124 سے 4657