شاعری

دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے

دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے اس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی جیسے پانا ہی اسے اصل میں مر جانا ہے بول اے شام سفر رنگ رہائی کیا ہے دل کو رکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے کون ابھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے اس کو ہر طور سوئے دشت سحر جانا ...

مزید پڑھیے

اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا

اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں ...

مزید پڑھیے

دشت دل میں سراب تازہ ہیں

دشت دل میں سراب تازہ ہیں بجھ چکی آنکھ خواب تازہ ہیں داستان شکست دل ہے وہی ایک دو چار باب تازہ ہیں کوئی موسم ہو دل گلستاں میں آرزو کے گلاب تازہ ہیں دوستی کی زباں ہوئی متروک نفرتوں کے نصاب تازہ ہیں آگہی کے ہماری آنکھوں پر جس قدر ہیں عذاب تازہ ہیں زخم در زخم دل کے کھاتے ...

مزید پڑھیے

آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے

آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے جیسے خالی آنکھوں میں بھی وحشت رہتی ہے ہر دم دنیا کے ہنگامے گھیرے رکھتے تھے جب سے تیرے دھیان لگے ہیں فرصت رہتی ہے کرنی ہے تو کھل کے کرو انکار وفا کی بات بات ادھوری رہ جائے تو حسرت رہتی ہے شہر سخن میں ایسا کچھ کر عزت بن جائے سب کچھ مٹی ہو جاتا ...

مزید پڑھیے

اس نے آہستہ سے جب پکارا مجھے

اس نے آہستہ سے جب پکارا مجھے جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے تیرا غم اس فشار شب و روز میں ہونے دیتا نہیں بے سہارا مجھے ہر ستارے کی بجھتی ہوئی روشنی میرے ہونے کا ہے استعارا مجھے اے خدا کوئی ایسا بھی ہے معجزہ جو کہ مجھ پر کرے آشکارا مجھے کوئی سورج نہیں کوئی تارا نہیں تو نے کس ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے

آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے کھڑکی سے مہتاب گزرنے والا ہے صدیوں کے ان خواب گزیدہ شہروں سے مہر عالم تاب گزرنے والا ہے جادوگر کی قید میں تھے جب شہزادے قصے کا وہ باب گزرنے والا ہے سناٹے کی دہشت بڑھتی جاتی ہے بستی سے سیلاب گزرنے والا ہے دریاؤں میں ریت اڑے گی صحرا کی صحرا سے ...

مزید پڑھیے

اوروں کا تھا بیان تو موج صدا رہے

اوروں کا تھا بیان تو موج صدا رہے خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے مثل حباب بحر غم حادثات میں ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے ہم اس سے اپنی بات کا مانگیں اگر جواب لہروں کا پیچ و خم وہ کھڑا دیکھتا رہے آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی ہم سوچتے تھے اس سے کبھی سامنا رہے گلشن میں تھے تو ...

مزید پڑھیے

زندگی درد بھی دوا بھی تھی

زندگی درد بھی دوا بھی تھی ہم سفر بھی گریز پا بھی تھی کچھ تو تھے دوست بھی وفا دشمن کچھ مری آنکھ میں حیا بھی تھی دن کا اپنا بھی شور تھا لیکن شب کی آواز بے صدا بھی تھی عشق نے ہم کو غیب دان کیا یہی تحفہ یہی سزا بھی تھی گرد باد وفا سے پہلے تک سر پہ خیمہ بھی تھا ردا بھی تھی ماں کی ...

مزید پڑھیے

لہو میں تیرتے پھرتے ملال سے کچھ ہیں

لہو میں تیرتے پھرتے ملال سے کچھ ہیں کبھی سنو تو دلوں میں سوال سے کچھ ہیں میں خود بھی ڈوب رہا ہوں ہر اک ستارے میں کہ یہ چراغ مرے حسب حال سے کچھ ہیں غم فراق سے اک پل نظر نہیں ہٹتی اس آئنے میں ترے خد و خال سے کچھ ہیں اک اور موج کہ اے سیل اشتباہ ابھی ہماری کشت یقیں میں خیال سے کچھ ...

مزید پڑھیے

لہو میں رنگ لہرانے لگے ہیں

لہو میں رنگ لہرانے لگے ہیں زمانے خود کو دہرانے لگے ہیں پروں میں لے کے بے حاصل اڑانیں پرندے لوٹ کر آنے لگے ہیں کہاں ہے قافلہ باد صبا کا دلوں کے پھول مرجھانے لگے ہیں کھلے جو ہم نشینوں کے گریباں خود اپنے زخم افسانے لگے ہیں کچھ ایسا درد تھا بانگ جرس میں سفر سے قبل پچھتانے لگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4123 سے 4657