خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے
خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے میں نے اک شخص سے اجرت پہ محبت کی ہے خود کو دھتکار دیا میں نے تو اس دنیا نے میری اوقات سے بڑھ کر مری عزت کی ہے جی میں آتا ہے مری مجھ سے ملاقات نہ ہو بات ملنے کی نہیں بات طبیعت کی ہے اب بھی تھوڑی سی مرے دل میں پڑی ہے شاید زرد سی دھوپ جو دیوار سے ...