اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے
اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے مگر فقیر گزرتے رہے صدا کرتے ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے تری جفا کا فلک سے نہ تذکرہ چھیڑا ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے تجھے نہیں ہے ابھی ...