ہر سانس میں خود اپنے نہ ہونے کا گماں تھا
ہر سانس میں خود اپنے نہ ہونے کا گماں تھا وہ سامنے آئے تو مجھے ہوش کہاں تھا کرتی ہیں الٹ پھیر یوں ہی ان کی نگاہیں کعبہ ہے وہیں آج صنم خانہ جہاں تھا تقصیر نظر دیکھنے والوں کی ہے ورنہ ان کا کوئی جلوہ نہ عیاں تھا نہ نہاں تھا بدلی جو ذرا چشم مشیت کوئی دم کو ہر سمت بپا محشر فریاد و ...