شاعری

ہر سانس میں خود اپنے نہ ہونے کا گماں تھا

ہر سانس میں خود اپنے نہ ہونے کا گماں تھا وہ سامنے آئے تو مجھے ہوش کہاں تھا کرتی ہیں الٹ پھیر یوں ہی ان کی نگاہیں کعبہ ہے وہیں آج صنم خانہ جہاں تھا تقصیر نظر دیکھنے والوں کی ہے ورنہ ان کا کوئی جلوہ نہ عیاں تھا نہ نہاں تھا بدلی جو ذرا چشم مشیت کوئی دم کو ہر سمت بپا محشر فریاد و ...

مزید پڑھیے

ان کی محفل میں ہمیشہ سے یہی دیکھا رواج

ان کی محفل میں ہمیشہ سے یہی دیکھا رواج آنکھ سے بیمار کرتے ہیں تبسم سے علاج میں جو رویا ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے حسن کی فطرت میں شامل ہے محبت کا مزاج میری خاطر خود اٹھاتے ہیں وہ تکلیف کرم کون رکھتا ورنہ مجھ جیسے گنہ گاروں کی لاج میرے ہونے اور نہ ہونے پر ہی کیا موقوف ہے موت ...

مزید پڑھیے

زندگی کے حسیں بہانے سے

زندگی کے حسیں بہانے سے موت ملتی رہی زمانے سے موسم گل خزاں مزاج سہی مر کے نکلیں گے آشیانے سے عشق کی آگ اے معاذ اللہ نہ کبھی دب سکی دبانے سے رزم دیر و حرم سے تنگ آ کر دل لگایا شراب خانے سے فائدہ کیا ہے بے شعوروں کو نغمۂ آرزو سنانے سے جب زمانے کا غم اٹھا نہ سکے ہم ہی خود اٹھ گئے ...

مزید پڑھیے

درمیاں گر نہ ترا وعدۂ فردا ہوتا

درمیاں گر نہ ترا وعدۂ فردا ہوتا کس کو منظور یہ زہر غم دنیا ہوتا کیا قیامت ہے کہ اب میں بھی نہیں وہ بھی نہیں دیکھنا تھا تو اسے دور سے دیکھا ہوتا کاسۂ زخم طلب لے کے چلا ہوں خالی سنگ ریزہ ہی کوئی آپ نے پھینکا ہوتا فلسفہ سر بہ گریباں ہے بڑی مدت سے کچھ نہ ہوتا تو خدا جانے کہ پھر کیا ...

مزید پڑھیے

میری قسمت کہ وہ اب ہیں مرے غم خواروں میں

میری قسمت کہ وہ اب ہیں مرے غم خواروں میں کل جو شامل تھے ترے حاشیہ برداروں میں زہر ایجاد کرو اور یہ پیہم سوچو زندگی ہے کہ نہیں دوسرے سیاروں میں کتنے آنسو ہیں کہ پلکوں پہ نہیں آ سکتے کتنی خبریں ہیں جو چھپتی نہیں اخباروں میں اب تو دریا کی طبیعت بھی ہے گرداب پسند اور وہ پہلی سی ...

مزید پڑھیے

مجھے خود سے بھی کھٹکا سا لگا تھا

مجھے خود سے بھی کھٹکا سا لگا تھا مرے اندر بھی اک پہرا لگا تھا ابھی آثار سے باقی ہیں دل میں کبھی اس شہر میں میلہ لگا تھا جدا ہوگی کسک دل سے نہ اس کی جدا ہوتے ہوئے اچھا لگا تھا اکٹھے ہو گئے تھے پھول کتنے وہ چہرہ ایک باغیچہ لگا تھا پئے جاتا تھا انورؔ آنسوؤں کو عجب اس شخص کو چسکا ...

مزید پڑھیے

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی اب نہ دیوار نہ زنجیر دکھائی دے گی وقت گزرا ہے پہ موسم نہیں بدلا یارو ایسی گردش ہے زمیں خود بھی دہائی دے گی یہ دھندلکا سا جو ہے اس کو غنیمت جانو دیکھنا پھر کوئی صورت نہ سجھائی دے گی دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ چراغاں ہوگا کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی ...

مزید پڑھیے

دنیا بھی عجب قافلۂ تشنہ لباں ہے

دنیا بھی عجب قافلۂ تشنہ لباں ہے ہر شخص سرابوں کے تعاقب میں رواں ہے تنہا تری محفل میں نہیں ہوں کہ مرے ساتھ اک لذت پابندیٔ اظہار و بیاں ہے حق بات پہ ہے زہر بھرے جام کی تعزیر اے غیرت ایماں لب سقراط کہاں ہے کھیتوں میں سماتی نہیں پھولی ہوئی سرسوں باغوں میں ابھی تک وہی ہنگام خزاں ...

مزید پڑھیے

شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے جس کو دیکھو وہ یہی بات لیے پھرتا ہے اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے اور مجھے شوق ملاقات لیے پھرتا ہے شاخچہ ٹوٹ چکا کب کا شجر سے لیکن اب بھی کچھ سوکھے ہوئے پات لیے پھرتا ہے سوچئے جسم ہے اب روح سے کیسے روٹھے اپنے سائے کو بھی جو سات لیے پھرتا ...

مزید پڑھیے

اس حسیں کے خیال میں رہنا

اس حسیں کے خیال میں رہنا عالم بے مثال میں رہنا کب تلک روح کے پرندے کا ایک مٹی کے جال میں رہنا اب یہی نغمگی کی ندرت ہے سر میں رہنا نہ تال میں رہنا بے اثر کر گیا ہے واعظ کو ہر گھڑی قیل و قال میں رہنا انورؔ اس نے نہ میں نے چھوڑا ہے اپنے اپنے خیال میں رہنا

مزید پڑھیے
صفحہ 4061 سے 4657