شاعری

رہتے ہوئے قریب جدا ہو گئے ہو تم

رہتے ہوئے قریب جدا ہو گئے ہو تم بندہ نواز جیسے خدا ہو گئے ہو تم مجبوریوں کو دیکھ کے اہل نیاز کی شایان اعتبار جفا ہو گئے ہو تم ہوتا نہیں ہے کوئی کسی کا جہاں رفیق ان منزلوں میں راہنما ہو گئے ہو تم تنہا تمہیں ہو جن کی محبت کا آسرا ان بیکسوں کے دل کی دعا ہو گئے ہو تم دے کر نوید نغمۂ ...

مزید پڑھیے

دور حاضر ہو گیا ہے اس قدر کم آشنا

دور حاضر ہو گیا ہے اس قدر کم آشنا آشنا ہمدم ہے کوئی اب نہ ہمدم آشنا آہ کس منزل پہ پہنچی ہیں مری تنہائیاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا مجھے غم آشنا مختصر یہ ہے مرے قلب و نظر کی داستاں آشنائے درد دل ہے آنکھ ہے نم آشنا اللہ اللہ یہ فضائے دشمن مہر و وفا آشنا کے نام سے ہوتا ہے برہم ...

مزید پڑھیے

وہ نیچی نگاہیں وہ حیا یاد رہے گی

وہ نیچی نگاہیں وہ حیا یاد رہے گی مل کر بھی نہ ملنے کی ادا یاد رہے گی ممکن ہے مرے بعد بھلا دیں مجھے لیکن تا عمر انہیں میری وفا یاد رہے گی جب میں ہی نہیں یاد رفیقان سفر کو حیراں ہوں کہ منزل انہیں کیا یاد رہے گی کچھ یاد رہے یا نہ رہے ذکر گلستاں غنچوں کے چٹکنے کی صدا یاد رہے ...

مزید پڑھیے

شب فراق کی ظلمت ہے نا گوار مجھے

شب فراق کی ظلمت ہے نا گوار مجھے نقاب اٹھا کہ سحر کا ہے انتظار مجھے قسم ہے لالہ و گل کے اداس چہروں کی فریب دے نہ سکا موسم بہار مجھے بصورت دل پر داغ ان کی محفل سے عطا ہوئی ہے محبت کی یادگار مجھے مذاق کل جو اڑاتی تھی غم کے ماروں کا وہ آنکھ کیوں نظر آتی ہے سوگوار مجھے جفا و جور ...

مزید پڑھیے

عمر گزری ہے التجا کرتے

عمر گزری ہے التجا کرتے قصۂ غم لب آشنا کرتے جینے والے ترے بغیر اے دوست مر نہ جاتے تو اور کیا کرتے ہائے وہ قہر سادگی آمیز کاش ہم پھر انہیں خفا کرتے رنگ ہوتا کچھ اور دنیا کا شیخ میرا اگر کہا کرتے آپ کرتے جو احترام بتاں بتکدے خود خدا خدا کرتے رند ہوتے جو باشعور انورؔ کیا بتاؤں ...

مزید پڑھیے

تلخابۂ غم خندہ جبیں ہو کے پئے جا

تلخابۂ غم خندہ جبیں ہو کے پئے جا موہوم امیدوں کے سہاروں پہ جئے جا مایوس نہ ہو بے رخیٔ چشم جہاں سے شائستہ احساس کوئی کام کیے جا شکوہ نہ کر اس دور جنوں زاد کا کوئی تقدیر خرد سوز کو الزام دیے جا اوروں کو گریباں کی تجھے فکر ہی کیوں ہو تو اپنی ہی صد چاکی داماں کو سیے جا ہر لمحہ تغیر ...

مزید پڑھیے

وقت جب کروٹیں بدلتا ہے

وقت جب کروٹیں بدلتا ہے فتنۂ حشر ساتھ چلتا ہے موج غم سے ہی دل بہلتا ہے یہ چراغ آندھیوں میں جلتا ہے اس کو طوفاں ڈبو نہیں سکتا جو کناروں سے بچ کے چلتا ہے کس کو معلوم ہے جنون حیات سایۂ آگہی میں پلتا ہے ان کی محفل میں چل بہ ہوش تمام کون گر کر یہاں سنبھلتا ہے میں کروں کیوں نہ اس کی ...

مزید پڑھیے

حاصل غم یہی سمجھتے ہیں

حاصل غم یہی سمجھتے ہیں موت کو زندگی سمجھتے ہیں جس کو تیرے الم سے نسبت ہے ہم اسی کو خوشی سمجھتے ہیں تم ستم میں کمی نہ فرماؤ ہم اسے دشمنی سمجھتے ہیں ہم چراغوں میں چاند تاروں کے آپ کی روشنی سمجھتے ہیں شیخ جی ہیں فرشتوں کے استاد آپ انہیں آدمی سمجھتے ہیں حسن موزوں کے ذکر کو ...

مزید پڑھیے

تجدید رسم و راہ ملاقات کیجیے

تجدید رسم و راہ ملاقات کیجیے مجھ سے نظر ملا کے ذرا بات کیجیے دیر و حرم میں روح کی تسکیں نہ ہو سکی اب احترام پیر خرابات کیجیے آخر جناب شیخ ہیں مہمان مے کدہ دو چار جام دے کے مدارات کیجیے گفتار تلخ شیوۂ واعظ ہے مے کشو شیریں دہن کی آپ سے کیا بات کیجیے آیا ہے کوئی پرسش احوال کے ...

مزید پڑھیے

نہ ہوں گے ہم تو یہ رنگ گلستاں کون دیکھے گا

نہ ہوں گے ہم تو یہ رنگ گلستاں کون دیکھے گا بہاروں سے ہی تخریب بہاراں کون دیکھے گا سر محشر جفاؤں کی شکایت بر محل لیکن پھر ان معصوم نظروں کو پشیماں کون دیکھے گا بجا ہے لالہ و گل کی تباہی کا تصور بھی مگر یہ منظر محشر بداماں کون دیکھے گا مجھے تسلیم ہے قید قفس سے موت بہتر ہے نشیمن پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4060 سے 4657