جو سنتا ہوں کہوں گا میں جو کہتا ہوں سنوں گا میں
جو سنتا ہوں کہوں گا میں جو کہتا ہوں سنوں گا میں ہمیشہ مجلس نطق و سماعت میں رہوں گا میں نہیں ہے تلخ گوئی شیوۂ سنجیدگاں لیکن مجھے وہ گالیاں دیں گے تو کیا چپ سادھ لوں گا میں کم از کم گھر تو اپنا ہے اگر ویران بھی ہوگا تو دہلیز و در و دیوار سے باتیں کروں گا میں یہی احساس کافی ہے کہ ...