شاعری

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے زباں پہ کانٹوں کا احساس بھی غنیمت ہے رواں ہے سانس کی کشتی اسی کے دھارے پر یہ ایک ٹوٹی ہوئی آس بھی غنیمت ہے نشاں نمو کے ہیں کچھ تو بساط صحرا پر جھلستی جلتی ہوئی گھاس بھی غنیمت ہے پھر اس کے بعد تمہاری شناخت کیا ہوگی روایتوں کی یہ بو باس بھی ...

مزید پڑھیے

بدلے گا رخ ہوا کبھی تو

بدلے گا رخ ہوا کبھی تو کھل جائے گا راستہ کبھی تو غفلت پہ خود اپنی چونک اٹھے گا سن کر وہ مری صدا کبھی تو ہو جائے گا منکشف بھی خود پر دیکھے گا وہ آئنہ کبھی تو کب تک یہ ادائے بے نیازی ٹوٹے گا یہ سلسلہ کبھی تو کھولے گا وہ مجھ پہ باب رحمت سن لے گا مری دعا کبھی تو قائم ہے امید پر ہی ...

مزید پڑھیے

نہ صرف اتنا کہ تند و تیز دھارا دیکھتا ہوں میں

نہ صرف اتنا کہ تند و تیز دھارا دیکھتا ہوں میں جو کٹتا جا رہا ہے وہ کنارا دیکھتا ہوں میں پہنچ کر سرحد عرفاں پہ آنکھیں بجھنے لگتی ہیں یہ کس بے اعتباری کا نظارہ دیکھتا ہوں میں سبھی نظریں تو ہیں بجھتے چراغوں تک جمی لیکن بساط انجمن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں بھڑک اٹھتے ہیں جب شعلے ...

مزید پڑھیے

دریا ساحل طوفاں دیکھے وقت کے آنے جانے میں

دریا ساحل طوفاں دیکھے وقت کے آنے جانے میں ہم نے ساری عمر گنوا دی کشتی پار لگانے میں بیگانے تو بیگانے تھے بیگانوں کا شکوہ کیا اپنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے گھر کو آگ لگانے میں پل دو پل میں ڈھ جاتے ہیں تاج محل ارمانوں کے لیکن برسوں لگ جاتے ہیں بگڑی بات بنانے میں ہوش و خرد کا دامن ...

مزید پڑھیے

اجڑا اجڑا شہر تمنا کیسے اسے آباد کریں

اجڑا اجڑا شہر تمنا کیسے اسے آباد کریں تم ہی قاتل تم ہی عادل ہم کس سے فریاد کریں امن و اخوت اپنا مسلک مہر و وفا ہے اپنا دین اپنا تو یہ کام نہیں ہے ظلم و استبداد کریں خوش فہمی کی پتواروں سے کشتی کھینا کیا معنی کچھ سوچیں کچھ راہ نکالیں وقت نہ یوں برباد کریں اہل جنوں نے جس بستی کو ...

مزید پڑھیے

ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے

ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے پلکوں پلکوں اشک سجائے باتیں کیں دیواروں سے جیون نیا جوجھ رہی ہے ظلم کے بہتے دھاروں سے ہم نے کیا کیا درد سمیٹے روزانہ اخباروں سے آنگن آنگن پھول کھلیں گے پیار کی خوشبو مہکے گی امن کا پرچم ہاتھوں میں لیں کام نہ لیں تلواروں سے نظم ...

مزید پڑھیے

چاند میرے گھر میں اترا تھا کہیں ڈوبا نہ تھا

چاند میرے گھر میں اترا تھا کہیں ڈوبا نہ تھا اے مرے سورج ابھی آنا ترا اچھا نہ تھا میں نے سن لی تھی ترے قدموں کی آہٹ دور سے تو نہ آئے گا کبھی دل میں مرے دھڑکا نہ تھا میں نے دیکھا تھا سر آئینہ اک پیکر کا عکس ہو بہ ہو ہم شکل تھا میرا مگر مجھ سا نہ تھا کیوں جھلس ڈالا ہے اس نے میرے خد و ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتا ہوں سر صحرائے تمنا خود کو

ڈھونڈھتا ہوں سر صحرائے تمنا خود کو میں کہ سمجھا تھا کبھی روح تماشا خود کو اپنے بچوں کی طرف غور سے جب بھی دیکھا کتنے ہی رنگوں میں بکھرا ہوا پایا خود کو اور کچھ لوگ مرے سائے تلے سستا لیں گرتی دیوار ہوں دیتا ہوں سہارا خود کو نور تو مجھ سے فراواں ہوا محفل محفل غم نہیں شمع صفت میں ...

مزید پڑھیے

میں ازل کا راہرو مجھ کو ابد کی جستجو

میں ازل کا راہرو مجھ کو ابد کی جستجو گرد رہ میرے جلو میں ساتھ میرے میں نہ تو زرد تھا چہرہ مگر مسرور تھا پہلو میں دل برگ گل جب لے اڑا چپکے سے میرا رنگ و بو مجھ کو اپنے شہر کا ہر ایک ذرہ ہے عزیز اے ہوا لے جا اڑا کر خاک میری کو بہ کو وقت کا دریا کہ جس میں میں کنول بن کر کھلا سوچئے تو ...

مزید پڑھیے

عارفؔ ازل سے تیرا عمل مومنانہ تھا

عارفؔ ازل سے تیرا عمل مومنانہ تھا ہاں غم یہ تھا کہ فکر کا ڈھب کافرانہ تھا تو مجھ سے دور رہ کے بھی میرے قریب تھا ہر چند تو خدا کی طرح تھا خدا نہ تھا تنہائی بسیط کا وہ عہد یاد کر جب تیرے پاس کوئی بھی تیرے سوا نہ تھا تھا اعتماد حسن سے تو اس قدر تہی آئینہ دیکھنے کا تجھے حوصلہ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4025 سے 4657