شاعری

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہے

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہے اے جنوں میرے سوا یہ میرے گھر میں کون ہے ٹھیک ہے اے ضبط غم! آنسو کوئی ٹپکا نہیں پر یہ دل سے آنکھ تک پیہم سفر میں کون ہے وہ تو کب کا اپنی منزل پر پہنچ کر سو چکا چاند کیا جانے کہ راہ پر خطر میں کون ہے میں تو اس صورت کا دیوانہ ہوں پر اے زندگی! صورت ...

مزید پڑھیے

مرتے مرتے روشنی کا خواب تو پورا ہوا

مرتے مرتے روشنی کا خواب تو پورا ہوا بہہ گیا سارا لہو تن کا تو دن آدھا ہوا راستوں پر پیڑ جب دیکھے تو آنسو آ گئے ہر شجر سایہ تھا تیری یاد سے ملتا ہوا صبح سے پہلے بدن کی دھوپ میں نیند آ گئی اور کتنا جاگتا میں رات کا جاگا ہوا شہر دل میں اس طرح ہر غم نے پہچانا مجھے جیسے میرا نام تھا ...

مزید پڑھیے

اس پار جہان رفتگاں ہے

اس پار جہان رفتگاں ہے اک درد کی رات درمیاں ہے آنکھیں ہیں کہ رہ گزار سیلاب اور دل ہے کہ ڈوبتا مکاں ہے اچھا ہے کہ صرف عشق کیجے یہ عمر تو یوں بھی رائیگاں ہے کس یاد کی چاندنی ہے دل میں اک لہر سی خون میں رواں ہے یاد آیا وہاں گرے تھے آنسو اب سبزہ و گل جہاں جہاں ہے ہر لحظہ بدل رہی ہے ...

مزید پڑھیے

عجیب رنگ تھے دل میں جو آنسوؤں میں نہ تھے

عجیب رنگ تھے دل میں جو آنسوؤں میں نہ تھے پس مژہ تھے وہ چہرے کہ چلمنوں میں نہ تھے جو رو چکے تو یہی بولتے در و دیوار ہوئے خموش کہ جیسے کبھی گھروں میں نہ تھے ہماری وضع نے پابندیاں قبول نہ کیں مثال نشہ تھے ہم اور ساغروں میں نہ تھے چلے تو اپنی ہی رفتار سے الجھ کے گرے ہوا کی طرح مقید ...

مزید پڑھیے

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گے

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گے قدم قدم پر جنگ لڑی ہے کہاں کہاں برپا ہو گے حال کا لمحہ پتھر ٹھہرا یوں بھی کہاں گزرتا ہے ہاتھ ملا کر جانے والو دل سے کہاں جدا ہو گے موجوں پر لہراتے تنکو چلو نہ یوں اترا کے چلو اور ذرا یہ دریا اترا تم بھی لب دریا ہو گے سوچو کھوج ملا ہے کس ...

مزید پڑھیے

کاش اک شب کے لیے خود کو میسر ہو جائیں

کاش اک شب کے لیے خود کو میسر ہو جائیں فرش شبنم سے اٹھیں اور گل تر ہو جائیں دیکھنے والی اگر آنکھ کو پہچان سکیں رنگ خود پردۂ تصویر سے باہر ہو جائیں تشنگی جسم کے صحرا میں رواں رہتی ہے خود میں یہ موج سمو لیں تو سمندر ہو جائیں وہ بھی دن آئیں یہ بے کار گزرتے شب و روز تیری آنکھیں ترے ...

مزید پڑھیے

آئنہ ملتا تو شاید نظر آتے خود کو

آئنہ ملتا تو شاید نظر آتے خود کو اب وہ حیرت ہے کہ پہروں نہیں پاتے خود کو آشنا لوگ جو انجام سفر سے ہوتے صورت نقش قدم آپ مٹاتے خود کو ایک دنیا کو گرفتار غم جاں دیکھا یوں نہ ہوتا تو تماشا نظر آتے خود کو آئنہ رنگ کا سیلاب ہے پایاب بہت آنکھ ملتی تو یہ منظر بھی دکھاتے خود کو اب یہ ...

مزید پڑھیے

واہمہ ہوگا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

واہمہ ہوگا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرے سایہ ہی مرے جسم سے لپٹا ہوگا چاند کی طرف نگاہوں میں لئے خواب طرب اور اک عمر ابھی خاک پہ سونا ہوگا اشک آئے ہیں تو یہ سیر چراغاں بھی سہی اس سے آگے تو وہی خون کا دریا ہوگا گر کبھی ٹوٹی بدلتی ہوئی رت کی زنجیر ایک اک پھول یہاں خود کو ترستا ...

مزید پڑھیے

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھی

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھی میں اگر یہ جانتا شاید تو روتا اور بھی پاؤں کی زنجیر گرداب بلا ہوتی اگر ڈوبتے تو سطح پر اک نقش بنتا اور بھی آندھیوں نے کر دیئے سارے شجر بے برگ و بار ورنہ جب پتے کھڑکتے دل لرزتا اور بھی روزن در سے ہوا کی سسکیاں سنتے رہو یہ نہ دیکھو ہے کوئی یاں ...

مزید پڑھیے

دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے

دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے اب وہ آنکھوں میں تلاطم ہے کہ دریا کیا ہے شوق کہتا ہے کہ ہر جسم کو سجدہ کیجے آنکھ کہتی ہے کہ تو نے ابھی دیکھا کیا ہے ٹوٹ کر شاخ سے اک برگ خزاں آمادہ سوچتا ہے کہ گزرتا ہوا جھونکا کیا ہے کیا یہ سچ ہے کہ خزاں میں بھی چمن کھلتے ہیں میرے دامن میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 399 سے 4657