شاعری

دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہے

دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہے ہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہے اس گرم اضطراب سے دل جل گیا خدا پہلو میں میرے دل ہے کہ برق طپیدہ ہے چوسا دہان زخم نے اس کو ہے اس طرح پیکان تیر یار زبان مکیدہ ہے ناصح جنوں کی بخیہ گری کی ہوس نہیں ہر تار جیب اب تو گریباں دریدہ ہے غنچہ کی طرح خاک رکھیں ...

مزید پڑھیے

نام لو گے جو یاں سے جانے کا

نام لو گے جو یاں سے جانے کا آپ میں پھر نہیں میں آنے کا ہم کو طوف حرم میں یاد آیا لڑکھڑانا شراب خانے کا دم لے اے چشم تر کہ دیکھوں میں عالم اس گل کے مسکرانے کا دیکھ سکتے نہیں وہ میرا حال کیا سبب کہئے مسکرانے کا دل صد چاک کی بنا صورت زلف پر دل گیا ہے شانے کا جلوہ اس ضد سے وہ دکھا ...

مزید پڑھیے

کتنے ہی تیر خم دست و کماں میں ہوں گے

کتنے ہی تیر خم دست و کماں میں ہوں گے جن کے سوفار ابھی سے مری جاں میں ہوں گے دل ہے اب خانۂ آسیب زدہ کی صورت زخم روزن اسی تاریک مکاں میں ہوں گے ایک ہم ہی نہیں سر میں لیے سودائے وفا اور بھی کتنے محبت کے گماں میں ہوں گے صرف تیرے لب و رخ کی نہیں تصویر چمن میرے بھی غم کے کئی رنگ خزاں ...

مزید پڑھیے

بجا کہ درپئے آزار چشم تر ہے بہت

بجا کہ درپئے آزار چشم تر ہے بہت پلٹ کے آؤں گا میں گرچہ یہ سفر ہے بہت ٹھہر سکو تو ٹھہر جاؤ میرے پہلو میں وہ دھوپ ہے کہ یہی سایۂ شجر ہے بہت دریدہ باہیں خزاں میں پکارتی ہیں چلو ہوائے تند میں ہر شاخ بے سپر ہے بہت کہوں تو وہ مری روداد درد بھی نہ سنے کہ جیسے اس کو مرے حال کی خبر ہے ...

مزید پڑھیے

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہے

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہے اے جنوں میرے سوا یہ میرے گھر میں کون ہے ٹھیک ہے اے ضبط غم آنسو کوئی ٹپکا نہیں پر یہ دل سے آنکھ تک پیہم سفر میں کون ہے وہ تو کب کا اپنی منزل پر پہنچ کر سو چکا چاند کیا جانے کہ راہ پر خطر میں کون ہے میں اسی صورت کا دیوانہ ہوں پر اے زندگی صورت یک ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کو

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کو دود ہر شمع گریباں نظر آیا مجھ کو چاند جو ابھرا شب غم مرے دل میں ڈوبا بھیگتی رات نے کچھ اور جلایا مجھ کو ہائے کیا کیا مجھے بیتاب رکھا ہے اس نے یاد کرنے پہ بھی جو یاد نہ آیا مجھ کو اب تو سانسوں کے تموج سے بھی جی ڈرتا ہے زندگی تو نے یہ کس گھاٹ ...

مزید پڑھیے

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں بہہ جائیں لہو بن کے یہ حسرت ہے دلوں میں دریا ہو تو موجوں میں کھلے اس کا سراپا پاگل ہے ہوا چیختی پھرتی ہے بنوں میں تیشے کی صدا میری ہی فریاد تھی گویا میری ہی طرح تھا کوئی پتھر کی سلوں میں یوں آج پھر اک حسرت ناکام پہ روئے جیسے نہ تھے پہلے کبھی ...

مزید پڑھیے

سنو کوی توصیف تبسم اس دکھ سے کیا پاؤ گے

سنو کوی توصیف تبسم اس دکھ سے کیا پاؤ گے سپنے لکھتے لکھتے آخر خود سپنا ہو جاؤ گے جلتی آنکھوں جوالا پھوٹے خوشبو گھل کر رنگ بنے دکھ کے لاکھوں چہرے ہیں کس کس سے آنکھ ملاؤگے ہر کھڑکی میں پھول کھلے ہیں پیلے پیلے چہروں کے کیسی سرسوں پھولی ہے کیا ایسے میں گھر جاؤ گے اتنے رنگوں میں ...

مزید پڑھیے

گرد آلود دریدہ چہرہ یوں ہے ماہ و سال کے بعد

گرد آلود دریدہ چہرہ یوں ہے ماہ و سال کے بعد جیسے فلک بارش سے پہلے جیسے زمیں بھونچال کے بعد مردہ لوگوں کی بستی میں سنتا ہوں آوازیں سی جیسے مقتل کا سناٹا بولے عام قتال کے بعد ہجر تو پہلے بھی آیا تھا لیکن اب وحشت ہے اور چلتی ہوا سے لڑتے ہیں ہم ایک پری تمثال کے بعد بھر جائیں گی جس ...

مزید پڑھیے

وہ اولیں درد کی گواہی سجی ہوئی بزم خواب جیسے

وہ اولیں درد کی گواہی سجی ہوئی بزم خواب جیسے وہ چشم سرمہ کلام کرتی وہ سارے چہرے کتاب جیسے وہ آنکھ سایہ فگن ہے دل پر جو بے خودی کا ہے استعارہ گھلی ہوئی نیلگوں سمندر میں طلعت ماہتاب جیسے بس ایک دھماکہ کہ رات کی سرحدوں کا کچھ تو سراغ پائیں بس ایک چنگاری چاہتا ہو فتیلۂ آفتاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 398 سے 4657