شاعری

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو جو سطح آب پہ ہو وہ مکاں تلاش کرو نگر میں دھوپ کی تیزی جلائے دیتی ہے نگر سے دور کوئی سائباں تلاش کرو ٹھٹھر گیا ہے بدن سب کا برف باری سے دہکتا کھولتا آتش فشاں تلاش کرو ہر ایک لفظ کے معنی بہت ہی اتھلے ہیں اک ایسا لفظ جو ہو بے کراں تلاش کرو بہت دنوں سے ...

مزید پڑھیے

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی پھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنی مرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پر مجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی میں نے دنیا کو سدا دل کے برابر سمجھا کام آئی نہ بزرگوں کی نصیحت ...

مزید پڑھیے

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے تم تو آئے اور دل کی آگ بھڑکاتے ہوئے موج مے بل کھا گئی گل کو جمائی آ گئی زلف کو دیکھا جو اس عارض پہ لہراتے ہوئے بے مروت یاد کر لے اب تو مدت ہو گئی تیری باتوں سے دل مضطر کو بہلاتے ہوئے نیند سے اٹھ کر کسی نے اس طرح آنکھیں ملیں صبح کے تارے کو دیکھا ...

مزید پڑھیے

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی ہر چند اشک یاس جب امڈے تو پی گئے چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی میں نے تو ہونٹ سی لیے اس دل کو کیا کروں بے اختیار تم کو پکارا کبھی کبھی زہر الم کی اور بڑھانے کو تلخیاں بے مہریوں کے ساتھ مدارا کبھی ...

مزید پڑھیے

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں عشق کی خامکاریاں نہ گئیں مر مٹے نام پر وفا کے ہم تیری بے اعتباریاں نہ گئیں لب پہ آیا نہ اس کا نام کبھی غم کی پرہیز گاریاں نہ گئیں کھپ گئی جان بجھ گئے تیور اشک کی تابداریاں نہ گئیں توبہ کرنے کو ہم نے کی تو مگر توبہ کی شرمساریاں نہ گئیں جان آ ہی گئی ...

مزید پڑھیے

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا میرے یوسف کے لئے مصر کا بازار نہ تھا خوں ہوا اشک بنا اور مژہ سے ٹپکا دل کہ لذت کش رنگینیٔ انکار نہ تھا مبتلا ہوں ترا جب سے صنم کفر فروش زلف تا دوش نہ تھی دوش پہ زنار نہ تھا قصۂ طور کبھی گوش حقیقت سے سنو شوق دیدار بجز حسرت دیدار نہ تھا غازۂ ...

مزید پڑھیے

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم غیرت سے آ جاتا پسینا آنکھ نہ ہم سے ملاتے تم حیف تمہیں فرصت ہی نہیں ہے ورنہ کیا کیا حسرت تھی حال ہمارا کچھ سن لیتے کچھ حال اپنا سناتے تم ننگ ہے ملنا عار تکلم ایک زمانہ ایسا تھا بزم میں اپنی ہم کو بلا کر عزت سے بٹھلاتے تم ہم وہ نہیں ...

مزید پڑھیے

ہائے رے پیاری پیاری آنکھ (ردیف .. ن)

ہائے رے پیاری پیاری آنکھ متوالی رتناری آنکھیں غارت دل پر ٹوٹ پڑی ہے شیام نگر کی کماری آنکھیں اس گھڑی دیکھو ان کا عالم نیند سے جب ہوں بھاری آنکھیں زہر کبھی ہیں اور کبھی امرت ان کی باری باری آنکھیں جن کو جھپکنا یاد نہیں ہے حیرت کی ہیں وہ ماری آنکھیں تکتی ہیں اب تک راہ کسی ...

مزید پڑھیے

نہ شرح شوق نہ تسکین جان زار میں ہے

نہ شرح شوق نہ تسکین جان زار میں ہے مزا جو اپنی محبت کے اعتبار میں ہے ابھی سے ہوش نہ کھو بیٹھ اے نسیم چمن ابھی تو ایک شکن زلف تاب دار میں ہے خود اپنے عشق کی رنگینیوں میں گم ہو جا نہیں کچھ اور اگر یہ تو اختیار میں ہے یہ محویت کوئی دیکھے کہ مثل آئینہ جنون خود نگری اپنے انتظار میں ...

مزید پڑھیے

بہار ہے ترے عارض سے لو لگائے ہوئے

بہار ہے ترے عارض سے لو لگائے ہوئے چراغ لالہ و گل کے ہیں جھلملائے ہوئے ترا خیال بھی تیری ہی طرح آتا ہے ہزار چشمک برق و شرر چھپائے ہوئے لہو کو پگھلی ہوئی آگ کیا بنائیں گے جو نغمے آنچ میں دل کی نہیں تپائے ہوئے ذرا چلے چلو دم بھر کو دن بہت بیتے بہار صبح چمن کو دلہن بنائے ہوئے قدیم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3988 سے 4657