شاعری

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی آپ کی شکوہ شکایت سے آگے نہ بڑھی لاکھ روتی رہی جلتی رہی افسوس مگر زندگی شمع کی اک رات سے آگے نہ بڑھی تو جفا کیش رہا اور میں وفا کوش رہا بات تیری بھی مری بات سے آگے نہ بڑھی یوں تو آغاز محبت میں بڑے دعوے تھے دوستی پہلی ملاقات سے آگے نہ بڑھی مل ...

مزید پڑھیے

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں اب آ بھی جاؤ دل زار مر نہ جائے کہیں مرا ستارا تو اب تک نظر نہیں آیا میں ڈر رہا ہوں کہ یہ شب گزر نہ جائے کہیں ندی کنارے کھڑا پیڑ سوچ میں گم ہے کوئی بھنور اسے برباد کر نہ جائے کہیں پرندے اپنے ٹھکانوں کو خیر سے پہنچے دعا یہی ہے کہ کوئی ٹھہر نہ ...

مزید پڑھیے

مری انا مرے دشمن کو تازیانہ ہے

مری انا مرے دشمن کو تازیانہ ہے اسی چراغ سے روشن غریب خانہ ہے میں اک طرف ہوں کسی کنج کم نمائی میں اور ایک سمت جہانداری زمانہ ہے یہ طائروں کی قطاریں کدھر کو جاتی ہیں نہ کوئی دام بچھا ہے کہیں نہ دانہ ہے ابھی نہیں ہے مجھے مصلحت کی دھوپ کا خوف ابھی تو سر پہ بغاوت کا شامیانہ ہے مری ...

مزید پڑھیے

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے مگر جنگوں کی تیاری بہت ہے خرد کی بستیوں کے پھونکنے کو جنوں کی ایک چنگاری بہت ہے سبھی زد میں ہیں دشت و کوہ و انساں یہ ضرب وقت ہے کاری بہت ہے پرانا خشک پتا کہہ رہا تھا ہوا میں تیز رفتاری بہت ہے ہم اپنے دل کی دنیا دیکھتے ہیں ہمیں یہ شغل بیکاری بہت ...

مزید پڑھیے

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی رہا ہے اس سے بہت رابطہ ہمارا بھی چمن وہی کہ جہاں پر لبوں کے پھول کھلیں بدن وہی کہ جہاں رات ہو گوارا بھی ہمیں بھی لمحۂ رخصت سے ہول آتا ہے جدا ہوا ہے کوئی مہرباں ہمارا بھی علامت شجر سایہ دار بھی وہ جسم خرابی دل و دیدہ کا استعارہ بھی افق تھکن کی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی مدت ہوئی اچھی کوئی صورت نہیں دیکھی چہروں کی طرح کس لیے مرجھائے ہوئے ہیں پھولوں نے تو ہم جیسی مصیبت نہیں دیکھی وہ شہر سے گزرا تھا فقط یاد ہے اتنا پھر کوئی بھی دستار سلامت نہیں دیکھی لوٹے جو مسافت سے تو میں اس سے یہ پوچھوں بستی تو کوئی راہ ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے

بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے یہ تجربہ بھی اسی زندگی میں کرنا ہے ہوا درختوں سے کہتی ہے دکھ کے لہجے میں ابھی مجھے کئی صحراؤں سے گزرنا ہے میں منظروں کے گھنے پن سے خوف کھاتا ہوں فنا کو دست محبت یہاں بھی دھرنا ہے تلاش رزق میں دریا کے پنچھیوں کی طرح تمام عمر مجھے ڈوبنا ابھرنا ...

مزید پڑھیے

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں ترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سے جو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کر نئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں مرے وجود میں آباد ہیں کئی جنگل جہاں میں ہو کی صدائیں لگاتا رہتا ...

مزید پڑھیے

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے اس سے پہلے کہ مرا کام مکمل ہو جائے میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤ آدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو ویرانے ہوں پھر سے آباد کہیں ایسا نہ ہو ہر شہر ہی جنگل ہو جائے یہ زمیں جس پہ ہے گلزاروں کی تعداد بہت یہ بھی ہو ...

مزید پڑھیے

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے وہ تجھ سے پیار نہیں خود سے عشق کرتا ہے فضا میں خوف کے پرچم بلند ہوتے ہیں سواد شام سے لشکر کوئی گزرتا ہے مری زمیں کے بلاوے غضب کے ہیں لیکن کوئی جنوں مرے پر رات دن کترتا ہے میں اپنے آپ کو اب کس کے چاک پر رکھوں شکستہ ظرف دوبارہ کہیں سنورتا ہے لگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3987 سے 4657