شاعری

ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے

ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے تھے جس زمیں پہ اسے آسماں بنا دیا ہے ہم ایسے خانہ خرابوں سے اور کیا بنتا کسی سے سلسلۂ ربط جاں بنا دیا ہے ہمارے شعر ہمارے خیال کچھ یوں ہیں خلا میں جیسے کسی نے مکاں بنا دیا ہے محبتوں کے امینوں کی ہیں وہ آوازیں کہ جن کو خلق نے شور سگاں بنا دیا ...

مزید پڑھیے

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا میں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کے نہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا اشارہ کرنے لگے ہیں بھنور کے ہاتھ ہمیں خوشا کہ پھر دل دریا میں اشتعال آیا مروتوں کے ثمر داغ دار ہونے لگے محبتوں کے شجر تجھ پہ کیا زوال آیا حسین شکل کو ...

مزید پڑھیے

پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب

پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب سچ یہ کہ ہیں حیات سے بیزار سب کے سب اپنی خبر کسی کو نہیں پھر بھی جانے کیوں پڑھتے ہیں روز شہر میں اخبار سب کے سب تھا ایک میں جو شرط وفا توڑتا رہا حالانکہ با وفا تھے مرے یار سب کے سب سوچو تو نفرتوں کا ذخیرہ ہے ایک دل کرتے ہیں یوں تو پیار کا اظہار ...

مزید پڑھیے

مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں

مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں ترے وصال کا امیدوار میں بھی ہوں پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں مجھے بھی حکم ملے جان سے گزرنے کا میں انتظار میں ہوں شہسوار میں بھی ہوں بہت سے نیزے یہاں خود مری تلاش میں ہیں یہ دشت جس میں برائے شکار ...

مزید پڑھیے

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا ایک ہی رنگ ہے دنیا کو جدھر سے دیکھا ہم سے اے حسن ادا کب ترا حق ہو پایا آنکھ بھر تجھ کو بزرگوں کے نہ ڈر سے دیکھا اپنی بانہوں کی طرح مجھ کو لگیں سب شاخیں چاند الجھا ہوا جس رات شجر سے دیکھا ہم کسی جنگ میں شامل نہ ہوئے بس ہم نے ہر تماشے کو فقط راہ ...

مزید پڑھیے

پتھر پانی ہو جاتے ہیں

پتھر پانی ہو جاتے ہیں لوگ کہانی ہو جاتے ہیں نئے نئے چہرے والے بھی بات پرانی ہو جاتے ہیں عشق کی رت میں سارے بھکاری راجا رانی ہو جاتے ہیں شام سمے لو کے جھونکے بھی پون سہانی ہو جاتے ہیں سکھ کا موسم جب آتا ہے جسم بھی پانی ہو جاتے ہیں سوکھے پتے گئی رتوں کے نئی نشانی ہو جاتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا

نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا سلگتی دھوپ کی سرحد پہ گھر کوئی بھی نہ تھا ہر ایک جسم تھا اک پوسٹر شعاعوں کا سلگتے دشت میں ٹھنڈا شجر کوئی بھی نہ تھا چمکتے دن میں تو سب لوگ ساتھ تھے لیکن اداس شب میں مرا ہم سفر کوئی بھی نہ تھا ہر ایک شہر میں تھا اضطراب کا آسیب جہاں سکون ہو ...

مزید پڑھیے

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ اے دوست میری تاب نظر آزما کے دیکھ پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ لیتا نہیں کسی کا پس مرگ کوئی نام دنیا کو دیکھنا ہے تو دنیا سے جا کے دیکھ دل میں ہمارے درد زمانے کا ہے نہاں پیوست دل میں ...

مزید پڑھیے

یہ دھوپ چھاؤں کے اسرار کیا بتاتے ہیں

یہ دھوپ چھاؤں کے اسرار کیا بتاتے ہیں جو آنکھ ہو تو اسی کا پتہ بتاتے ہیں یہ کون لوگ ہیں جو سارے کم عیاروں کو کبھی چراغ کبھی آئینہ بتاتے ہیں کبھی وہ شخص اک ادنیٰ غلام تھا میرا رفیق اب جسے اپنا خدا بتاتے ہیں بہت سے لوگوں کو میں بھی غلط سمجھتا ہوں بہت سے لوگ مجھے بھی برا بتاتے ...

مزید پڑھیے

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی اور مجھ کو شہادت کی ضرورت نہیں کوئی میں رزق کی آواز پہ لبیک کہوں گا ہاں مجھ کو زمینوں سے محبت نہیں کوئی میرے بھی کئی خواب تھے میرے بھی کئی عزم حالات سے انکار کی صورت نہیں کوئی میں جس کے لیے سارے زمانے سے خفا تھا اب یوں ہے کہ اس نام سے نسبت نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3985 سے 4657