شاعری

ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ

ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ سینے میں ہیں تپاں جگر و دل الگ الگ قاتل تو رشک دیکھ ذرا اپنے کشتوں کا مقتل میں بھی تڑپتے ہیں بسمل الگ الگ کیا انتظام ہے مرے لیلیٰ جمال کا مجنوں رواں ہیں سب پس محفل الگ الگ دیکھو بشر میں صنعت خلاق روزگار سب ایک ہیں مگر ہے شمائل الگ الگ فرماتے ہیں ...

مزید پڑھیے

دفتر جو گلوں کے وہ صنم کھول رہا ہے

دفتر جو گلوں کے وہ صنم کھول رہا ہے اغیار تو کیا دل بھی ادھر بول رہا ہے آثار رہائی ہیں یہ دل بول رہا ہے صیاد ستم گر مرے پر کھول رہا ہے غیروں سے مرے واسطے جو بول رہا ہے آب درد ندا نہیں وہ سم گھول رہا ہے کس کس کا نہیں طائر دل دام میں اس کے طوطی خط عارض کا ترے بول رہا ہے جامے سے ہوا ...

مزید پڑھیے

حضور غیر تم عشاق کی تحقیر کرتے ہو

حضور غیر تم عشاق کی تحقیر کرتے ہو محبت کرنے والوں کی یہی توقیر کرتے ہو عبث تم خواہش‌ وصل بت بے پیر کرتے ہو جو قسمت میں نہیں ہے اس کی کیا تدبیر کرتے ہو زمین و آسماں کا فرق ہے خورشید و ذرہ میں مقابل چاند سے کیا یار کی تصویر کرتے ہو دم آخر لڑے وحشی کے زنداں میں یہ غل ہوگا ستم کرتے ...

مزید پڑھیے

باقی نہ حجت اک دم اثبات رہ گئی

باقی نہ حجت اک دم اثبات رہ گئی ثابت کیا جو اس کا دہن بات رہ گئی کیا جلد وصل یار کی کم رات رہ گئی جو بات چاہتے تھے وہی رات رہ گئی بد نامیوں کے ڈر سے وہ ملتے ہیں گاہ گاہ چوری چھپے کی ان سے ملاقات رہ گئی گریاں وہ ہوں جو ابر مژہ کی جھڑی لگی منہ میرا دیکھ دیکھ کے برسات رہ گئی ہر وقت ...

مزید پڑھیے

دانتوں سے جبکہ اس گل تر کے دبائے ہونٹھ

دانتوں سے جبکہ اس گل تر کے دبائے ہونٹھ بولا کہ صاحب اپنے سے سمجھو پرائے ہونٹھ اس غیر قمر کے اگر دیکھ پائے ہونٹھ لعل یمن بھی رشک سے اپنا چبائے ہونٹھ پھولوں سے اس کے جبکہ چمن میں ملائے ہونٹھ نازک زیادہ رگ سے سمن کے بھی پائے ہونٹھ سمجھا میں خضر چشمہ آب حیات ہوں ہونٹھوں سے میرے اس ...

مزید پڑھیے

یہ بولے جو ان کو کہا بے مروت

یہ بولے جو ان کو کہا بے مروت میں کیا تم سے بھی ہوں سوا بے مروت لقب میرے قاتل کے کیا پوچھتے ہو ستم گار نا آشنا بے مروت ان آئینہ رویوں میں ہے وہ ستم گر بڑا خود غرض خود نما بے مروت تو وہ کج ادا ہے جو دنیا میں ڈھونڈھیں نہ تجھ سا ملے دوسرا بے مروت نہیں اس میں رحم و حیا کچھ وہ قاتل بڑا ...

مزید پڑھیے

ستم وہ تم نے کیے بھولے ہم گلہ دل کا

ستم وہ تم نے کیے بھولے ہم گلہ دل کا ہوا تمہارے بگڑنے سے فیصلہ دل کا بہار آتے ہی کنج قفس نصیب ہوا ہزار حیف کہ نکلا نہ حوصلہ دل کا چلا ہے چھوڑ کے تنہا کدھر تصور یار شب فراق میں تجھ سے تھا مشغلہ دل کا وہ رند ہوں کہ مجھے ہتکڑی سے بیعت ہے ملا ہے گیسوئے جاناں سے سلسلہ دل کا وہ ظلم کرتے ...

مزید پڑھیے

ایک صورت تری بنانے میں

ایک صورت تری بنانے میں رنگ مصروف ہیں زمانے میں پھیلتی جا رہی ہے یہ دنیا جشن آوارگی منانے میں قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے دل قصۂ عاشقی سنانے میں کیسے کیسے وجود روشن ہیں وقت کے نیلے شامیانے میں میرا پیکر مجھے عطا کر دے کیا کمی ہے ترے خزانے میں

مزید پڑھیے

دل بنا ہے ہدف تیر نظر آپ ہی آپ

دل بنا ہے ہدف تیر نظر آپ ہی آپ زخم کھائے ہیں شب و روز مگر آپ ہی آپ خوف رہزن بھی نہیں حاجت رہبر بھی نہیں رہ گزر ہے خضر راہ گزر آپ ہی آپ کچھ ادھر سے بھی تقاضائے وفا ہونے دے دل ناداں تو ہی آغاز نہ کر آپ ہی آپ ہم نے مانا کہ نظر ہم نہ کریں گے ہرگز اور کھینچے کوئی دامن کو اگر آپ ہی ...

مزید پڑھیے

میں اداس ہوں مرے مہرباں میں اداس ہوں

میں اداس ہوں مرے مہرباں میں اداس ہوں تو کہیں نہیں ہے تو ہے کہاں میں اداس ہوں مرا شہر خواب تو ریزہ ریزہ بکھر چکا کہیں کھو گئی مری کہکشاں میں اداس ہوں مجھے اپنے قدموں کی خاک میں ہی پناہ دے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ماں میں اداس ہوں یہ جو جنگ ہے کسی اور وقت پہ ٹال دیں صف دوستاں صف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3980 سے 4657