ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ
ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ سینے میں ہیں تپاں جگر و دل الگ الگ قاتل تو رشک دیکھ ذرا اپنے کشتوں کا مقتل میں بھی تڑپتے ہیں بسمل الگ الگ کیا انتظام ہے مرے لیلیٰ جمال کا مجنوں رواں ہیں سب پس محفل الگ الگ دیکھو بشر میں صنعت خلاق روزگار سب ایک ہیں مگر ہے شمائل الگ الگ فرماتے ہیں ...