شاعری

آج بے آپ ہو گئے ہم بھی

آج بے آپ ہو گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن میں تھوڑے موتی پرو گئے ہم بھی دیر سے تھے وہ جس کے گھیرے میں اسی جھرمٹ میں کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا کہاں کہاں نہ تمہیں جب نہ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم ...

مزید پڑھیے

اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا

اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا آنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جا دل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا سانس کا تار ٹوٹ جائے ٹوٹے نہ تار آہ کا ایک ہی لے پہ گائے جا ایک ہی دھن بجائے جا حکم طلب کے منتظر شوق کی آبرو نہ ...

مزید پڑھیے

نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں

نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں ہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوں رخنہ اندازئ اندوہ سے غافل نہیں میں ہے جگر چاک تو کیا ہونٹ سیے بیٹھا ہوں کیا کروں دل کو جو لینے نہیں دیتا ہے قرار جو مقدر نے دیا ہے وہ لیے بیٹھا ہوں التفات اے نگہ ہوشربا اب کیوں ہے پاس جو کچھ تھا وہ پہلے سے ...

مزید پڑھیے

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے ہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والے حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے چپ ہے پروانہ تو کیا شمع کو خود ہے اقرار آپ ہی جلتے ہیں اوروں کو جلانے والے آرزوؔ ذکر زبانوں پہ ہے عبرت کے لئے مٹنے والے ہیں نہ باقی ...

مزید پڑھیے

کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا

کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا ساری جوانی آدھا مہینہ دنیائے دل کی رسمیں نرالی بے موت مرنا بے آس جینا روکا تھا دم بھر لہراتا آنسو آ آ گیا ہے دانتوں پسینہ وہ ایسے ہی ہیں جا رے جوانی جو خود ہی بخشا وہ خود ہی چھینا جس کا تھا وعدہ وہ کل نہ آئی دن گنتے گزرا سارا مہینہ منہ پر صفائی اور ...

مزید پڑھیے

میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے

میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے شمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئے نہ سہی خاک کے پتلوں میں صفات ملکی بارے اس بار وفا کے متحمل تو ہوئے حوصلے دل کے محبت میں جو پستے ہی رہے کر کے ہمت ترے غمزوں کے مقابل تو ہوئے پرشس غم زدگاں بہر تفنن ہی سہی خیر سے آپ بھی اس بزم میں شامل تو ...

مزید پڑھیے

جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے

جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے وہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہے ہمیشہ کو پھولے پھلے گا یہ گلشن ابھی دیکھنے کو تو مرجھا رہا ہے ہر اک شام کہتی ہے پھر صبح ہوگی اندھیرے میں سورج نظر آ رہا ہے بڑھی جا رہی ہے اگر دھوپ آگے تو سایہ بھی دوڑا چلا جا رہا ہے ستارے بنیں گے چمک دار آنسو یہ ...

مزید پڑھیے

بازار محبت میں شرمندہ شرافت ہے

بازار محبت میں شرمندہ شرافت ہے پھولوں کی نمائش ہے خوشبو کی تجارت ہے ہنستے ہوئے گلشن کو پل بھر میں رلا ڈالے آوارہ ہواؤں میں ایسی بھی مہارت ہے تعمیر کا جذبہ بھی تخریب کا نقشہ بھی یہ شوق شہادت ہے یا ذوق بغاوت ہے بجھتے ہوئے انگارے پیغام یہ دیتے ہیں شعلوں سے الجھنے کی شبنم میں ...

مزید پڑھیے

یہی مقام وفا ہے تو کوئی بات نہیں

یہی مقام وفا ہے تو کوئی بات نہیں یہ دل یہیں پہ لٹا ہے تو کوئی بات نہیں ہمارے دور محبت کا راز سر بستہ کسی سے تم نے سنا ہے تو کوئی بات نہیں بڑے سلیقے سے مضمون بند ہے اس میں لفافہ دل کا کھلا ہے تو کوئی بات نہیں مرے خلاف فلک بوس سازشوں کا دھواں تمہارے گھر سے اٹھا ہے تو کوئی بات ...

مزید پڑھیے

لہو کے ساتھ طبیعت میں سنسناتی پھرے

لہو کے ساتھ طبیعت میں سنسناتی پھرے یہ شام شام غزل سی ہے گنگناتی پھرے دھڑک رہا ہے جو پہلو میں یہ چراغ بہت بلا سے رات جو آئے تو رات آتی پھرے جواں دنوں کی ہوا ہے چلے چلے ہی چلے مرے وجود میں ٹھہرے کہ آتی جاتی پھرے غروب شام تو دن بھر کے فاصلے پر ہے کرن طلوع کی اتری ہے جگمگاتی پھرے غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3973 سے 4657