شاعری

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں

آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں گلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کو اس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبل و گل کا ذکر تو ...

مزید پڑھیے

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندۂ گل ...

مزید پڑھیے

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں وہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریں دیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائے پریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں ہجر ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے دل میں آنے والا

آنکھ سے دل میں آنے والا دل سے نہیں اب جانے والا گھر کو پھونک کے جانے والا پھر کے نہیں ہے آنے والا دوست تو ہے نادان ہے لیکن بے سمجھے سمجھانے والا آنسو پونچھ کے ہنس دیتا ہے آگ میں آگ لگانے والا ہے جو کوئی تو دھیان اسی کا آنے والا جانے والا حسن کی بستی میں ہے یارو کوئی ترس بھی ...

مزید پڑھیے

ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو

ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو اور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہو تقدیر سے ڈرتا ہوں کہ پھر مت نہ پلٹ جائے تم دل کے خریدار اگر ہو تو ابھی ہو دیدار کو کل کہہ کے قیامت پہ وہ ٹالیں اور شوق کا اصرار اگر ہو تو ابھی ہو بدلا ہوا ہر عہد نیا لاتا ہے پیغام یہ کیا کہ ہر اقرار اگر ہو تو ...

مزید پڑھیے

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ...

مزید پڑھیے

دل مکدر ہے آئینہ رو کا

دل مکدر ہے آئینہ رو کا نہ ملا رنگ سے پتا بو کا ہے دم صبح وہ خماریں آنکھ ایک ٹوٹا طلسم جادو کا کم جو ٹھہرے جفا سے میری وفا تو یہ پاسنگ ہے ترازو کا دل کی بے چینیاں خدا کی پناہ تکیہ ہٹ ہٹ گیا ہے پہلو کا کہیں جاتی بہار رکتی ہے دامن آیا نہ ہاتھ میں بو کا ہے نئی قید اب یہ آزادی زور ...

مزید پڑھیے

مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں

مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں ہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں دلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاں چمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں جسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہے وہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں امنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھی ملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار ...

مزید پڑھیے

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا بہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا امین عشق نے دل بے خطر خرید لیا یہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا غضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھی جو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا بھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کا اگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا رہ رضا میں ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے

کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے چتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہے آنے کو ہے کوئی جو للک پھر سے ہوئی ہے ڈوبے ہوئے سورج کی کرن پھوٹ رہی ہے ہے پگھلی ہوئی آگ کہ جلتے ہوئے آنسو لوکا وہیں اٹھا ہے جہاں بوند پڑی ہے جب سکھ نہیں جینے میں تو اک روگ ہے جینا سانس آئی ہے جب چوٹ کلیجے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3972 سے 4657