آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں
آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں گلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کو اس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبل و گل کا ذکر تو ...