شاعری

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی قید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے دشت عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی ایک لگی کے دو ہیں ...

مزید پڑھیے

حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی

حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی شمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کی شان بستی سے نہیں کم مرے ویرانے کی روح ہر بونڈلے میں ہے کسی دیوانے کی آمد موسم گل کی ہے خبر دور دگر تازگی چاہئے کچھ ساخت میں پیمانے کی آئی ہے کاٹ کے میعاد اسیری کی بہار ہتکڑی کھل کے گری جاتی ہے دیوانے کی سرد اے ...

مزید پڑھیے

اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے

اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے سیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہے ناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے کشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل ...

مزید پڑھیے

یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں

یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں اگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروں ہے محبت ایسی بندھی گرہ جو نہ ایک ہاتھ سے کھل سکے کوئی عہد توڑے کرے دغا مرا فرض ہے کہ وفا کروں میں ہزار باتوں میں ایک بھی کبھی ان سے کھل کے نہ کہہ سکا اگر ایک طرح کی بات ہو تو ہزار طرح ...

مزید پڑھیے

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے ٹھہرے اس در پہ یوں تو کیا ٹھہرے بن کے زنجیر بے صدا ٹھہرے سانس ٹھہرے تو دم ذرا ٹھہرے تیز آندھی میں شمع کیا ٹھہرے زندگانی ہے اک نفس کا شمار بے ہوا یہ چراغ کیا ٹھہرے جس کو تم لا دوا بتاتے تھے تمہیں اس درد کی دوا ٹھہرے عشق ...

مزید پڑھیے

کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے

کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے جہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے تمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہے نگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے تصوروں کے فریب اٹھا کر مشاہدہ وہم بن رہا ہے نظر نے کھائے ہیں اتنے دھوکے کہ ...

مزید پڑھیے

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا جو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نام نمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا مرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دور یہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا خوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخل برا وہ کہتے رہے اور کچھ برا ...

مزید پڑھیے

کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے

کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے مجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سے دل مطمئن کی وسعت کوئی کم ہے ماسوا سے مجھے کاہے کی کمی ہے جو طلب کروں خدا سے ہوئی ختم غم کی آندھی وہی دل کی لو ہے اب بھی یہی شعلہ تھا وہ شعلہ کہ لڑا کیا ہوا سے کہے کون اسے پتنگا جو ہے شعلے پر دھواں سا تجھے ...

مزید پڑھیے

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی کبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی ہے خوشی کا سودا خلش نہانی ہے جگر کا چھالا ثمر جوانی جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانی نہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی ازلی محبت ابدی کہانی کہ پس فنا ہے نئی زندگانی ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکم جو تری کہانی وہ مری کہانی وہ ...

مزید پڑھیے

قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں

قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں میں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں اعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیں دل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں وہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیں گزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے شعلے کو بند کر کے پانی بنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3971 سے 4657