شاعری

جب زندگی سکون سے محروم ہو گئی

جب زندگی سکون سے محروم ہو گئی ان کی نگاہ اور بھی معصوم ہو گئی حالات نے کسی سے جدا کر دیا مجھے اب زندگی سے زندگی محروم ہو گئی قلب و ضمیر بے حس و بے جان ہو گئے دنیا خلوص و درد سے محروم ہو گئی ان کی نظر کے کوئی اشارے نہ پا سکا میرے جنوں کی چاروں طرف دھوم ہو گئی کچھ اس طرح سے وقت نے ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو وہ اب دل سے جدا ہو نہیں سکتے

کچھ بھی ہو وہ اب دل سے جدا ہو نہیں سکتے ہم مجرم توہین وفا ہو نہیں سکتے اے موج حوادث تجھے معلوم نہیں کیا ہم اہل محبت ہیں فنا ہو نہیں سکتے اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے اک آپ کا در ہے مری دنیائے عقیدت یہ سجدے کہیں اور ادا ہو نہیں سکتے احباب ...

مزید پڑھیے

گراں گزرنے لگا دور انتظار مجھے

گراں گزرنے لگا دور انتظار مجھے ذرا تھپک کے سلا دے خیال یار مجھے نہ آیا غم بھی محبت میں سازگار مجھے وہ خود تڑپ گئے دیکھا جو بیقرار مجھے نگاہ شرمگیں چپکے سے لے اڑی مجھ کو پکارتا ہی رہا کوئی بار بار مجھے نگاہ مست یہ معیار بے خودی کیا ہے زمانے والے سمجھتے ہیں ہوشیار مجھے بجا ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی کا ہر نفس ممنون ہے تدبیر کا

زندگی کا ہر نفس ممنون ہے تدبیر کا واعظو دھوکا نہ دو انسان کو تقدیر کا اپنی صناعی کی تجھ کو لاج بھی ہے یا نہیں اے مصور دیکھ رنگ اڑنے لگا تصویر کا آپ کیوں گھبرا گئے یہ آپ کو کیا ہو گیا میری آہوں سے کوئی رشتہ نہیں تاثیر کا دل سے نازک شے سے کب تک یہ حریفانہ سلوک دیکھ شیشہ ٹوٹا جاتا ...

مزید پڑھیے

یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے

یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے آنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سے ہے ربط دو دلوں کو بے ربطیٔ بیاں سے کچھ وہ کہیں نظر سے کچھ ہم کہیں زباں سے یہ روتے روتے ہنسنا ترتیب ذکر غم ہے آیا ہوں ابتدا پر چھیڑا تھا درمیاں سے حاصل تو زندگی کا تھی زندگی یہیں کی اب میں ہوں اک جنازہ اٹھوا دو ...

مزید پڑھیے

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور ...

مزید پڑھیے

وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا

وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا کل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھا حسن ہے مشغلۂ ظلم کو گہرا پردہ پس پردہ ہے اندھیرا مجھے معلوم نہ تھا عشق وہ شے ہے کہ چرکے بھی مزہ دیتے ہیں ورنہ قاتل ہیں حسیں کیا مجھے معلوم نہ تھا دل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرار کل یہ کچھ اور ...

مزید پڑھیے

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی آنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئی کب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئے پلکیں جھکیں پپوٹے تنے آنکھ تھک گئی کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی آنسو رکے تھے آنکھ میں دھڑکن کا ہو برا ایسی تکان دی کی پیالی ...

مزید پڑھیے

ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں

ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں بے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میں چپ میں نے لگائی تو ہوا اس کا بھی چرچا جو بھید نہ کھلتا ہو وہ کھل جاتا ہے ڈر میں سورج کا گھمنڈ اور نہیں تارے کے برابر ایسی ہی تو باتیں ہیں اس اندھیر نگر میں وہ ٹل نہیں سکتی جو پہنچنے کی گھڑی ہے چلتا رہے گلیوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا

وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا جواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیا قریب صبح یہ کہہ کر اجل نے آنکھ جھپکا دی ارے او ہجر کے مارے تجھے اب تک نہ خواب آیا دل اس آواز کے صدقے یہ مشکل میں کہا کس نے نہ گھبرانا نہ گھبرانا میں آیا اور شتاب آیا کوئی قتال صورت دیکھ لی مرنے لگے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3970 سے 4657